Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Sirate mustaqeem.

Urdu · 2 min

صراط مستقیم۔ انسان کے لیے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کا سیدھا راستہ صرف ایک ہے، اور وہ خدا کی طرف رخ کرنا ہے۔ یعنی اپنی تمام توجہات اور سرگرمیوں کو خدا کی طرف موڑ دینا۔ خدا کو اپنا سب کچھ بنا کر اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا، یہی صراط مستقیم ہے۔

اس کے برعکس ہر وہ راستہ منزل سے بھٹکا ہوا راستہ ہے جس میں خدا کی طرف رخ نہ پایا جاتا ہو۔ اپنے نفس کی مانگیں پوری کرنے میں لگا رہنا، کسی زندہ یا مردہ شخص کی بڑائی میں گم رہنا، مثبت مقصد کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنا، حسد اور بغض اور انتقام اور انانیت کے جذبات کے تحت عمل کرنا، قوم یا وطن یا جماعت کو سب سے اونچا مقام دے کر اس کے لیے اپنے کو وقف کر دینا—یہ سب ٹیڑھی راہیں ہیں۔ جو اصل راستے کے دائیں بائیں سے نکلتی ہیں، وہ اصل منزل کے ادھر ادھر سے گزر جاتی ہیں اور اپنے مسافر کو منزل تک نہیں پہنچاتیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ آدمی کے دل میں خدا کے سوا کسی اور کی یاد سما جائے، وہ خدا کے سوا کسی اور کو پکارے، اور خدا کے سوا کسی اور کو اپنے جذبات کا مرکز بنا لے، اس کی سرگرمیوں کا رخ خدا کے سوا کسی اور چیز کی طرف ہو جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صراط مستقیم سے بھٹک گیا۔

اس نے اپنے نقطے سے خدا کے نقطے کی طرف سفر نہیں کیا۔ ریل گاڑی کی ایک پٹری ہوتی ہے؛ گاڑی اگر پٹری پر چلے تو وہ کامیابی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے، اور اگر اس کے پہیے پٹری کے دائیں بائیں اتر جائیں تو اس کا راستہ کھوٹا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی منزل پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔

انسان اگر سیدھا اپنے خدا کی طرف سفر کرے تو اس کا سفر صحیح طور پر جاری رہتا ہے اور بالآخر اس کو منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر اس کے سفر کا رخ خدا کی طرف نہ رہے تو وہ بھٹک جاتا ہے اور بربادی کے سوا کسی انجام تک نہیں پہنچتا۔ کتاب: دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.