جنت کس کے لیے؟ جنت کا داخلہ صرف اس کے لیے لکھا گیا ہے جس نے ہر دوسری عظمت کی نفی کر کے ایک خدا کی عظمت کو پایا ہو۔ جس نے اپنے سینے کو ہر دوسری محبت سے خالی کر کے اس میں صرف خدا کی محبت کو جگہ دی ہو۔ جب کسی سے کوئی اختلافی معاملہ پڑتا ہے اور آدمی انصاف کو چھوڑ کر بے انصافی کا رویہ اختیار کرتا ہے، تو وہ اپنے لیے جنت میں بسائے جانے کا استحقاق کھو دیتا ہے۔
کیونکہ جنت انصاف پسندوں کی بستی ہے، نہ کہ بے انصافوں کی سرائے۔ جب کسی سے شکایت پیدا ہونے کے موقع پر آدمی کبر اور سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے، تو وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ جنت کی دنیا میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ کیونکہ جنت متواضعین کے لیے ہے، نہ کہ متکبرین کے لیے۔ جب کسی سے ان بن ہونے پر آدمی اس کی بربادی کے منصوبے بناتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو جنت کا نااہل ثابت کر دیتا ہے۔
کیونکہ جنت ان اونچے انسانوں کی بستی ہے جو ایک دوسرے کی عزت کرنے والے ہوں، نہ کہ ایک دوسرے کی کاٹ کرنے والے۔ کسی غیر خدا پر تنقید سن کر جب آدمی کے عقیدت و محبت کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ جنت کی دنیا میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ کیونکہ جنت تو ان پاکیزہ روحوں کی کالونی ہے جو خدا کی محبت و عقیدت میں جیتے ہوں، نہ کہ انسانوں میں سے کسی انسان کی عقیدت و محبت میں۔ جب آدمی اپنی تعریف سن کر لذت لیتا ہے اور اپنی عزت و شہرت کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، تو وہ جنت کی شہریت کو کھو دیتا ہے۔
کیونکہ جنت ان بے نفس لوگوں کے لیے ہے جو صرف اللہ کی تعریف پر خوش ہوں، اور اللہ کی کبریائی کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہوں۔ جب آدمی کے سامنے سچائی آئے اور وہ اس کے ساتھ اندھے پن کا معاملہ کرے، تو وہ جنت میں بسائے جانے کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ کیونکہ جنت تو ان لوگوں کا مقام ہے جو اپنے آپ کو حق کے ساتھ اس طرح شامل کر لیں کہ حق کو ہمیشہ حق کی صورت میں دیکھیں، اور باطل کو ہمیشہ باطل کی صورت میں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.