قیامت۔ ہر روز رات کے بعد دن آتا ہے۔ جو چیزیں رات کے وقت اندھیرے میں چھپی ہوئی تھیں، وہ دن کے اجالے میں ایک ایک کر کے سامنے آ جاتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا کے بعد آخرت کی دنیا آئے گی۔
اس وقت تمام حقیقتیں دن کی روشنی کی طرح کھل جائیں گی۔ آج آدمی اپنی برائی کو مصنوعی اعمال میں چھپا لیتا ہے۔ کسی کو خوبصورت الفاظ مل گئے ہیں جو اس کی باطل پرستی کو حق پرستی کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ کسی کے لیے اس کی ظاہری رونقیں اس کی باطنی گندگی کا پردہ بن گئی ہیں۔
ہر آدمی کی حقیقت رات کی تاریکی میں ڈھکی ہوئی ہے۔ مگر قیامت اس طرح کے تمام پردوں کو پھاڑ دے گی۔ وہ دن کی روشنی کی طرح ہر چیز کو اس کی اصلی حالت میں دکھا دے گی۔ وہ وقت بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔
اس دن ہر آدمی وہاں کھڑا ہوا دکھائی دے گا جہاں وہ حقیقتاً تھا، نہ کہ اس مصنوعی مقام پر جہاں وہ آج اپنے کو کھڑا کیے ہوئے ہے۔ کتنے لوگ جو آج اقتدار کے مالک بنے ہوئے ہیں، اس دن ان کے پاس عجز اور بے چارگی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم شخصیت کا درجہ پائے ہوئے ہیں، اس دن وہ کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔
کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شاندار جواب ہے، اس دن وہ ایسے بے جواب ہو چکے ہوں گے جیسے کہ ان کے پاس الفاظ ہی نہیں۔ کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.