ختم نبوت۔ پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول تھے، آپ کے بعد اب کوئی رسول نہیں آئے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ اللہ کی طرف سے جتنے رسول آئے، سب ایک ہی دین لے کر آئے۔ ان کے بولنے کی زبانیں الگ الگ تھیں، مگر دین سب کا ایک تھا۔
مگر پچھلے نبیوں کی تعلیمات کو ان کے ماننے والے ان کی اصلی حالت میں محفوظ نہ رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار پیغمبر آتے رہے، تاکہ خدا کے دین کو سرِ نو تازہ اور زندہ کر دیں۔ مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا انقلاب آیا جس نے دین کو اس کی اصلی حالت میں محفوظ کر دیا۔ اس لیے اب نیا پیغمبر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا کا دین اس طرح قائم ہو گیا جو آپ کے بعد ہر دور میں پیغمبر کا بدل بن سکے۔ خدا کی کتاب ویسی ہی کی ویسی محفوظ ہے جیسی کہ وہ آسمان سے اتری تھی۔ حتیٰ کہ اب پریس کے دور میں چھپ کر وہ دنیا بھر میں ہر آدمی تک پہنچ گئی۔ رسول کی زندگی ایک کامل نمونے کی حیثیت سے مستند کتابی مجموعوں میں مرتب ہو گئی۔
رسول کے بعد ایک ایسی مستقل امت وجود میں آ گئی جو نسل در نسل قرآن و سنت کے علم کو لوگوں تک پہنچاتی رہے۔ اور اسی کے ساتھ دین کے طریقوں، مثلاً نماز کیسے پڑھی جائے، کو اس طرح عملی طور پر بتاتی رہے کہ کسی کو اس کی تعمیل میں دشواری نہ رہے۔ ہر دور کا انسان دین کو ٹھیک اسی طرح پاتا رہے جس طرح رسول کے زمانے کے انسانوں کو وہ رسول کے ذریعے ملا تھا۔ جب دین محفوظ ہو گیا اور لوگوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے اس کا تسلسل قائم ہو گیا، تو اب نیا نبی آنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔
اب خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے ذریعے وہ کام ہوتا رہے گا جو پہلے رسول کے ذریعے انجام پاتا تھا۔ پہلے یہ کام براہِ راست رسولوں کے ذریعے ہوتا تھا، اب وہ رسول کی امت کے ذریعے ہوگا۔ کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.