اللہ کا رسول کارخانے سے ایک مشین بن کر نکلتی ہے تو اس کے ترکیبِ استعمال کا کاغذ بھی ساتھ رکھ دیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک انجینئر آتا ہے جو عملاً کر کے دکھا دے کہ مشین کو کس طرح چلانا چاہیے۔ انسان بھی ایک زیادہ پیچیدہ قسم کی زندہ مشین ہے۔ وہ پیدا ہو کر اچانک اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں کسی پہاڑ کے اوپر یہ لکھا ہوا نہیں کہ یہ دنیا کیا ہے اور یہاں اس کو کس طرح رہنا چاہیے۔
دنیا کے تعلیم گاہوں میں ایسے انجینئر بھی تیار نہیں ہوتے جو زندگی کے راز کو جانیں اور انسان کے لیے عملی رہنما کا کام دے سکیں۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خدا نے اپنے رسول بھیجے۔ ہر رسول اپنے ساتھ اللہ کا کلام لایا۔ اس کلام کے ذریعے خدا نے انسان کو بتایا کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے، اور آدمی کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
اسی کے ساتھ رسول تمام انسانوں کے لیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ تھے۔ آدمی کن جذبات و خیالات کے ساتھ جیے، وہ اپنے رب کو کس طرح یاد کرے، انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے وہ لوگوں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے، اس کی دوستی اور دشمنی کی بنیاد کیا ہو۔ غرض ہر آدمی صبح سے شام تک جو زندگی گزارتا ہے، اس کا عملی نمونہ اس کو رسول کی زندگی میں مل جاتا ہے۔ خدا نے اگرچہ ہر آدمی کی فطرت میں حق اور ناحق کی تمیز رکھ دی ہے، زمین و آسمان میں بے شمار نشانیاں پھیلا دی ہیں جن سے آدمی سبق حاصل کر سکے۔
تاہم اسی کے ساتھ خدا نے انسانوں کی زبان میں اپنی کتاب بھی اتاری، اور انسانوں میں سے اپنے کچھ بندوں کو منتخب کر کے اپنا رسول مقرر کیا تاکہ ہدایت اور گمراہی کو سمجھنے میں آدمی کے لیے کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.