خدا کے فرشتے: خدا نے اپنی قدرتِ خاص سے جو مخلوقات پیدا کی ہیں، انہی میں سے اس کی وہ نورانی مخلوق ہے جس کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتے بے شمار تعداد میں ہیں، وہ کائنات کے ہر گوشے میں خدا کے احکام پہنچاتے رہتے ہیں، اور خدا کے حکم کے تحت اس کی وسیع سلطنت کا انتظام کر رہے ہیں۔ فرشتے خدا کے حد درجہ وفادار کارندے ہیں، جو اس کے حکم کے تحت موجودات کے پورے کارخانے کو چلاتے ہیں۔ زمین، سورج اور ستارے مسلسل حرکت کرتے ہیں، مگر ان کی رفتار میں کروڑوں سال کے اندر بھی کوئی فرق نہیں آتا۔
پانی اور بارش کا ایک زبردست نظام ہے جو زمین کے اوپر اربوں سال سے جاری ہے۔ زمین کی سطح پر ہر آن طرح طرح کے درخت اور پودے نکل رہے ہیں۔ انسان اور دوسرے زندہ اجسام روزانہ پیدا ہوتے ہیں اور زمین پر اپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح کے ان گنت واقعات جو دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں، وہ کیوں کر ہو رہے ہیں؟
خدا کے رسولوں نے بتایا کہ یہ سب کا سب ایک خدائی نظام ہے جس کو وہ اپنے غیبی فرشتوں کے ذریعے چلا رہا ہے۔ خدا اور اس کی دوسری مخلوقات کے بیچ میں فرشتے ایک قسم کا درمیانی وسیلہ ہیں، جن کے ذریعے خدا اپنی تمام مخلوقات پر اپنے حکموں کا نفاذ کرتا ہے۔ اسی طرح یہ فرشتے خدا کے پیغمبروں تک خدا کا کلام پہنچاتے ہیں، وہ انسانوں کے اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ ان کے ذریعے خدا افراد اور قوموں پر اپنا انعام اتارتا ہے اور ان کو سزائیں دیتا ہے۔
فرشتے انسان کی روح قبض کرتے ہیں، انہی فرشتوں کے ذریعے وہ سور پھونکا جائے گا جو تمام عالم کو درہم برہم کر دے گا، اور پھر کچھ لوگ جنت میں جگہ پائیں گے اور کچھ لوگ جہنم میں۔ کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 6۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.