جب موت آئے گی، اگر آپ اپنی دونوں آنکھیں بند کر لیں تو ساری دنیا آپ کے لیے تاریک ہو جائے گی۔ سورج کی روشنی اور آسمان کی بلندی سے لے کر درختوں کی سرسبزیاں اور شہروں کی رونقیں تک، سب اندھیرے میں چھپ جائیں گی۔ ساری چیزیں موجود ہوتے ہوئے بھی آپ کے لیے غیر موجود بن جائیں گی۔ ایسی ہی کچھ مثال آخرت کی ہے۔
آخرت ایک مکمل حقیقت ہے، بلکہ آخرت سب سے بڑی حقیقت ہے، مگر وہ ہم کو نظر نہیں آتی کیونکہ وہ ہمارے لیے غیب میں ہے۔ اس کی طرف سے ہماری آنکھیں بند ہیں۔ موت کا دن وہ دن ہے جب کہ غیب کا پردہ ہماری آنکھوں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ موت کے فوراً بعد آدمی آخرت کی دنیا کو اسی طرح دیکھنے لگتا ہے جس طرح آج ایک بند آنکھ والا آنکھ کھولنے کے بعد موجودہ دنیا کو دیکھتا ہے۔
ایک شخص کی آنکھ پر پٹی باندھ کر اس کو زندہ شیر کے سامنے کھڑا کر دیا جائے، وہ بالکل بے خبر ہو کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ اسی حالت میں اچانک اس کی آنکھ کھول دی جائے۔ اس وقت زندہ اور کھلے ہوئے شیر کو اپنے سامنے دیکھ کر اس کا جو حال ہوگا، اس سے کہیں زیادہ بدحواسی آدمی کے اوپر اس وقت طاری ہوگی جب کہ وہ موت کے بعد اچانک آخرت کو دیکھے گا۔ وہ شخص جو دنیا میں اپنے آپ کو بہت سے سہاروں کے درمیان پاتا ہے، اچانک وہ دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سہارا ہو چکا ہے۔
اس کے وہ دوست اس سے چھوٹ چکے ہوں گے جن کے درمیان وہ تفریح کرتا تھا۔ اس کے وہ بیوی بچے اس کے لیے غیر بن چکے ہوں گے جن کو وہ اپنا سمجھ کر اپنا سب کچھ ان کے اوپر قربان کر رہا تھا۔ اس کے وہ مادی اسباب جن پر وہ اعتماد کیے ہوئے تھا، مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ بے حقیقت ثابت ہوں گے۔ وہ باتیں جن کو وہ بے وزن سمجھ کر نظر انداز کر دیتا تھا، وہ لوہے اور پتھر سے بھی زیادہ سخت بن کر اس کے سامنے کھڑی ہوں گی۔
کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.