سیرت کی کتابوں میں جن واقعات کا ذکر ہے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو حلف الفضول کہاجاتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ آپ کو ابھی پیغمبری نہیں ملی تھیں۔ مکہ میں عبداللہ بن جُدعان کے مکان میں کچھ لوگ جمع ہوئے۔ انہوں نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ مظلوم کی حمایت کریں گے اور حقدار کو اس کا حق دلائیں گے۔ جو افراد اس اجتماع میں شریک ہوئے، ان میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ پیغمبری کے بعد مذکورہ اجتماع(حلف الفضول) کا ذکر ہو تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت میں بھی اس میں شریک تھا۔ اور اب اسلام کے بعد بھی اگر مجھے اس کے لیے بلایا جائے تو میں لبیک کہوں گا(وَلَوْ أدعَى بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لأجبتُ) سیرت ابن ہشام، جلد1،صفحہ 124۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حِلف الفضول والے کام کے بارے میں تھا۔ دوسری طرف دعوت توحید کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ یہ میرا راستہ ہے۔ میں لوگوں کو پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں اور میری پیروی کرنے والے بھی(هذِهِ سَبِيلِي أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي)12:108۔
ان دونوں باتوں پر تقابلی اعتبار سے غور کیجئے۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’’حلف الفضول‘‘ والے کام میں آپ صرف مدعو کی حیثیت اپنے لیے پسند فرماتے تھے۔ جب کہ ’’دعوت توحید‘‘ والے کام میں آپ داعی کی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ ایسا ماحول جہاں شرک کی غلبہ ہو، وہاں دعوت توحید ہی اہل ایمان کا اصل ایجابی کام ہوگا۔ وہ داعی الی اللہ بن کر اٹھیں گے۔ جہاں تک سماجی امن اور اخلاقی سدھار کی بات ہے، اس میں وہ خیر طلب عناصر کے بلاوے پر وقتی طور پر ان کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں، مگر اسی کو اپنی دعوت و تحریک کی بنیاد نہیں بنا سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی بگاڑ کی اصل جڑ ہمیشہ خدا فراموشی ہوتی ہے، اور پیغمبر، اور اس کی اتباع میں اہل ایمان ہمیشہ جڑ پر محنت کرتے ہیں نہ کہ شاخوں اور پتیوں پر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔