رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص تھا جس کا نام مُسَیلمِہ بن حُبَیب تھا۔ وہ یمامہ کا رہنے والا تھا۔ اس پیغمبر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔10 ھجری میں اس نے اپنے دو آدمیوں کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا جس کا مضمون یہ تھا: مِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ، إلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أُشْرِكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَكَ، وَإِنَّ لَنَا نِصْفَ الْأَرْضِ، وَلِقُرَيْشٍ نِصْفَ الْأَرْضِ، وَلَكِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ (سیرۃ ابن ھشام،جلد2،صفحہ 600)۔مسیلمہ خدا کے رسول کی طرف سے محمد خدا کے رسول کے نام۔ تمہارے اوپر سلامتی ہو۔ اس کے بعد یہ کہ میں نبوت میں تمہارے ساتھ تمہارا شریک بنا دیا گیا ہوں اور یہ کہ نصف زمین(عرب) ہمارے لئے ہے اور نصف زمین قریش کے لئے۔ مگر قریش حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہیں۔
مسیلمہ کے سفیر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کا خط پڑھا گیا تو آپ نے سفیروں سے پوچھا کہ تم لوگوں کا کہنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کئے جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا(أَمَا وَاَللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا) اس کے بعد آپ نے مسیلمہ کو حسب ذیل خط لکھوایا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، إلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ: السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى. أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْأَرْضَ للَّه يُورَثُهَا مَنْ يُشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (سيرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ600-601)بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد اللہ کے رسول کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ سلامتی ہے اس شخص کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور زمین اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام صرف متقیوں کے لئے ہے۔
اس واقعہ میں ایک طرف سچے رسول اور جھوٹے رسول کا تقابل ملتا ہے۔ مسیلمہ کا خط واضح طور پر جھوٹے رسول کا خط ہے اور پیغمبر اسلام کا خط واضح طور پر سچے رسول کا۔
دوسری بات جو پیغمبر اسلام کے اسوہ سے معلوم ہوئی ہے وہ یہ کہ غیر قوم کا سفیر خواہ وہ بدترین مجرم کیوں نہ ہو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو اس کے وطن کی طرف واپس کر دیا جائے گا۔ ان معاملات میں بین الاقوامی اصول ہی اسلام کا اصل ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔