یہاں ہم نے صرف دور جدید کے چند انقلابات کا مختصر ذکر کیا ہے۔ اسلام کے ساتھ اس قسم کے ناموافق واقعات پچھلے چودہ سو سال میں بار بار پیش آئے ہیں۔ ہر واقعہ اپنی ابتدا میں مخالفت اسلام کا واقعہ نظر آتا تھا۔ مگر اپنی انتہا پر پہنچ کر وہ عین حمایت اسلام کا واقعہ بن گیا۔ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کا غلبہ اور پھر اسلام کی فکری قوت سے ان کا مغلوب ہونا اسی نوعیت کی ایک مشہور مثال ہے۔
تاریخ کا یہ متواتر تجربہ ہمارے لیے نہایت حوصلہ بخش خوش خبری ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اسلام کے حق میں فکری غلبہ کو ابدی طور پر مقدر کر دیا گیا ہے۔ اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی طوفان کو دیکھ کر مایوس نہ ہوں۔ بلکہ یقین کے سرمایہ کے ساتھ اسلام کی دعوت کو لے کر آگے بڑھیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مخالف کی زیادتیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر تم اس کے سامنے دعوتِ خیر پیش کرو تو تم دیکھوں گے کہ جو بظاہر تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے(فصلت، 41:34):والآن ونحن نواجہ الصعوبات و المشکلات۔ لواننا اقمنا القرآن فسوف یثبعت التاریخ و کانما سیف التترقد ظہر مرۃ اخری کی یتحول الی خادم وحام لدین اللّٰہ کما حدث فی القرن السابع الھجری۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔