Maulana Wahiduddin Khan
26 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

تکمیل دین

Urdu · 26 min

ختم نبوت اور تکمیل دین دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیقی اسکیم کے مطابق یہ لازمی طور پر ضروری ہے کہ اہل عالم کے سامنے ہر زمانہ میںخدا کی رہنمائی موجود رہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ رہنمائی پیغمبروں کے ذریعہ فراہم کی جاتی تھی۔ انسان اول آدم علیہ السلام ہی کے وقت سے رہنمائی کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس کے بعد ہر دور میں وہ مسلسل جاری رہا۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے____ثُمَّ أَرْسَلْنا رُسُلَنا تَتْر (23:44)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن(23:40) میں اعلان کیا گیا کہ وہ آخری رسول ہیں۔ اب ان کے بعد کوئی اور رسول آنے والا نہیں ہے۔ یہ اعلان سادہ طور پر صرف فہرست انبیاء کے پور ہو جانے کا اعلان نہ تھا۔ اس کا لازمی مطلب یہ بھی تھا کہ ذات نبوت اگرچہ اب دنیا میں موجود نہیں رہے گی مگر بدل نبوت ہمیشہ دنیا میں بدستور باقی رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تکمیل دین(بمعنی استحکام دین) دراصل اسی فیصلہ خداوندی کا ظہور ہے۔ ختم نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو نبوت کا بدل یا اس کا قائم مقام بنا دیا۔ قدیم زمانہ میں دین عدم استحکام کا شکار ہوتا رہتا تھا۔ اس لیے نبی کے بعد وہ نبوت کا بدل نہیں بن سکتا تھا۔ پیغمبر آخر الزمان کے بعد، اللہ کی خصوصی نصرت کے ذریعہ دین کو پوری طرح مستحکم کر دیا گیا۔ اس طرح ختم نبوت کے بعد خود دین نبوت کا بدل بن گیا۔ قیامت تک یہ حالت باقی رہے گی، اس لیے اب قیامت تک محمد عربی کی نبوت بھی جاری رہے گی۔ اب کسی نئے نبی کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اسی معاملہ کو قرآن میں اکمال دین(یا تکمیل دین) کہا گیا ہے۔ یعنی دین کو اس طرح مستحکم کر دینا کہ قیامت تک اس کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ قرآن کی سورۃ نمبر5 میں ارشاد ہوا ہے: الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً (5:3)۔آج منکر لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، تم صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں دین کامل سے مراد دین مستحکم ہے(لسان العرب598/11، تفسیر النسفی270/1)پچھلے زمانوں میں دین میں بار بار تحریف و تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔ مخالف طاقتیں پیغمبروں کے دین کو تاریخ تک سے مٹانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ عالم انسانی میں ایسا انقلاب لایا گیا کہ دینی عدم استحکام کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ضحاک کے قول کے مطابق، قرآن کی یہ آیت فتح مکہ کے بعد8ھ میں نازل ہوئی۔ یعنی ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے چودہ سو سال پہلے۔ اس وقت کے حالات میں اس آیت کی حیثیت مستقبل کے بارے میں ایک جرأت مندانہ پیشین گوئی کی تھی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ اب تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اب خدا کے دین کے لیے خشیتِ انسانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ اب خدا کا دین اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ مخالف طاقتیں آئندہ کبھی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں تمام کام اسباب عادی کے تحت انجام پذیر ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کو شامل کرکے مذکورہ آیت کی تفسیر کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آنے والے زمانوں میں تاریخ کا سفر صرف اس سمت میں ہوگا جو دینِ خداوندی کے موافق ہو۔ آئندہ پیش آنے والے واقعات صرف وہی رخ اختیار کریں گے جو دین خدا کا اثبات کرنے والے ہوں نہ کہ اس کی تردید کرنے والے۔

یہ پیشین گوئی تمام زمانوں میں مکمل طور پر پوری ہوئی ہے۔ اس طرح خالص علمی اور تاریخی سطح پر یہ ثابت ہوا ہے کہ قرآن خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ کیونکہ خدا وند عالم کے سوا کوئی بھی تاریخ کے بارے میں ایسے فیصلہ کن اعلان پر قادر نہیں اور نہ کبھی کسی نے اس قسم کا فیصلہ کن اعلان تاریخ کے بارے میں کیا۔

اس مختصر صحبت میں میں تاریخ کے تین بڑے واقعات کاذکر کروں گا۔ یہ واقعات وہ ہیں جو بظاہر مخالفت دین انقلاب کی حیثیت سے ظاہر ہوئے، مگر باعتبار نتیجہ وہ حامیٔ دین انقلاب بن گئے۔ یہ تین انقلابات ہیں___ آزادی، سائنس، اور سیکولرازم۔

1۔ موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ جب کہ پچھلے تمام زمانے اظہار خیال پر پابندی کے زمانے رہے ہیں۔ ہر انسانی گروہ میں، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، دنیا کے ہر حصے میں اور تاریخ کے ہر مرحلے میں، کسی نہ کسی شکل میں زبان و قلم پر احتساب قائم رہا ہے

Some form of censorship has appeared in all communities, small and large, in all parts of the world, at all stages of history. (3/1083)

آزادی اظہا ر پر اسی عمومی پابندی کا یہ نتیجہ تھا کہ مذاہب کی مقدس کتابیں کبھی کھلی تنقید کا موضوع نہ بن سکیں۔ تنقیدی جائزہ کی اس ممانعت کی بنا پر ایسا ہوا کہ ایک مذہبی کتاب اور دوسری مذہبی کتاب کا فرق بھی خالص علمی بنیاد پر واضح ہو کر سامنے نہیں آیا۔ مذہبی کتابوں کی حیثیت متعین کرنے کا معلوم ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ان کتابوں کو ماننے والوں کا اپنا عقیدہ تھا۔ ہر گروہ اپنی مقدس کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب بتا رہا تھا، اس بنا پر لوگوں نے بھی ہر کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب فرض کر لیا تھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن محفوظ آسمانی کتاب تھی اور دوسری تمام کتابیں غیر محفوظ آسانی کتاب، قرآن پوری طرح غیر محرف تھا، جب کہ دوسری تمام مذہبی کتابیں تحریف کا شکار ہو چکی تھیں۔

موجودہ زمانہ میں جب کھلی آزادی کا دور آیا تو ہر چیز کی بے روک ٹوک جانچ ہونے لگی۔ حتیٰ کہ مقدس مذہبی کتابیں بھی اس کی زد میں آگئیں۔ یہ عمل پچھلے تقریباً تین سو سال سے اہل علم کے درمیان جاری ہے۔ حتیٰ کہ یہ ایک مستقل فن بن گیا ہے جس کو ہائر کریٹیسزم، ہسٹاریکل کریٹیسزم، تنقید متن (textual criticism) وغیرہ کہا جاتا ہے۔

اس آزادانہ جانچ کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے ثابت ہو کر سامنے آگیا۔ ان ناقدین نے جس طرح دوسری مقدس کتابوں کی جانچ کی۔ اسی طرح انہوں نے قرآن کی بھی بے رحمانہ جانچ کی۔ مگر آخر کار جو بات ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے اور اس کے مقابلہ میں ہر ایک غیر محفوظ کتاب۔ قرآن غیر محرف ہے اور دوسری کتابیں محرف۔ قرآن ایک معتبر تاریخی کتاب ہے، جبکہ دوسری کتابوں کو تاریخی اعتباریت حاصل نہیں۔

مثال کے طور پر دور جدید کے علماء نے قرآن کے مختلف نسخے مختلف ملکوں سے حاصل کیے۔ انہوں نے مختلف زمانوں کے قرآنی نسخے ہاتھ سے لکھے ہوئے یا مطبوعہ قسم کے اکٹھا کیے۔ ان تمام جمع شدہ قرآنی نسخوں کا ایک دوسرے سے تقابل کیا گیا۔ مگر قرآن کے ہزاروں نسخوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی ادنی فرق بھی دریافت نہ ہو سکا۔ بعض آیتوں کے بعض الفاظ میں قرأت(لہجہ) کا فرق ضرور تھا۔ مگر جہاں تک مصحف میں کتابت کا سوال ہے، کتابت میں کوئی بھی جزئی یا کلی فرق ان میں پایا نہیں گیا۔

دوسری مقدس کتابوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ ان کے مختلف نسخوں میں ہزاروں واضح فرق پائے گئے۔ مثال کے طور پر تورات کے کچھ نسخوں میں ایک گروہ کی تعداد دس ہزار(Ten Thousands) بتائی گئی تھی۔ اور کچھ دوسرے نسخوں میں اسی گروہ کی تعداد کے لیے ہزاروں(Thousands) کا لفظ درج تھا۔ انجیل میں ایک مقام پر حضرت مسیح کے لیے ابن اللہ(son of God) لکھا ہوا ملا۔ اور اس کے کچھ دوسرے نسخوں میں حضرت مسیح کو ابن داؤد(son of David) لکھا ہوا تھا۔ وغیرہ۔

موجودہ دور آزادی قرآن اور اسلام کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا تھا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو وہ اسلام کے حق میں مفید ثابت ہوا۔ اس نے قرآن کے حق میں ایک نئی تاریخی دلیل فراہم کر دی۔ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق جو اب تک صرف مسلمانوں کے ذاتی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اب خود علم انسانی کی رو سے ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آزادی کا یہ طوفان بظاہر اہل اسلام کے لیے عُسر کا ایک واقعہ تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ اہل اسلام کے لیے عین یُسر کے ہم معنی ثابت ہوا۔

2۔ دوسرا فکری انقلاب جدید سائنسی انقلاب ہے۔ خاص طور پر انیسویں صدی عیسوی میں کسی چیز کو دریافت کرنے کا وہ طریقہ وضع ہوا جس کو سائنسی طریقہ(scientific method) کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں چیزوں کو قابل مشاہدہ یا قابل تجربہ واقعات کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔ اس طریقہ کے رواج سے انسان کو بہت سی نئی چیزوں کے بارے میں واقفیت ہوئی۔ مثلاً شمسی نظام کا تفصیلی علم، یا زمین کی تہوں کے بارے میں قطعی معلومات۔

ان مادی دریافتوں کے بعد ایک مستقل فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازیٹوزم(positivism) کہا جاتا ہے۔ اسی فلسفہ کے تحت یہ سمجھا جانے لگا کہ کسی حقیقی علم تک پہنچنے کا معیار(criterion) صرف ہے، اور وہ براہ راست تجربہ یا مشاہدہ ہے جو قابل تصدیق(verifiable) ہو۔

اس نقطہ نظر سے دیکھا گیا تو مذہبی معتقدات اس معیار علم میں پورے ہوتے نظر نہیں آئے۔ کیونکہ مذہبی عقائد تمام تر بالواسطہ استدلال یا استنباط کی بنیاد پر قائم تھے۔ مثلاً خدا کا وجود ناقابل مشاہدہ تھا۔ اس کے حق میں جو دلیل دی جاتی تھی وہ بس اس قسم کی تھی کہ اس عالم میں چونکہ ڈزائن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈزائنر ہو۔ اس قسم کا استنباطی استدلال جدید علمی معیار کے مطابق غیر معقول(invalid) تھا۔ اس لیے ان کو فرضی توجیہات(pseudo-explanations) کہہ کر ردکر دیا گیا۔

علم کی دنیا میں تقریباً سو سال تک یہ فکری ہنگامہ جاری رہا۔ مگر اس نقطہ نظر میں فکری وزن صرف اس وقت تک تھا جب تک انسانی علم کی رسائی عالم کبیر(macro-world) تک محدود تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر(micro-world) تک پہنچ گئی تو ساری صورت حال یکسر بدل گئی۔

اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آ رہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباط یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رانٹجن(Wilhelm Conrad Rontgen) نے 1895ء میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثرات(effect) ظاہر ہو رہے ہیں جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابل مشاہدہ شعاع(invisible radiation) ہے جو 186000 میل فی سکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانٹجن نے اس کا نام اکسرے(X-rays) رکھ دیا(19/1058)

بیسویں صدی میں اس طرح کے کثیر حقائق سامنے آئے جن کا براہ راست مشاہدہ ممکن نہ تھا مگر ان کے بالواسطہ اثرات کی بنا پر ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے جدید علماء مجبور ہوئے کہ براہ راست استدلال کے ساتھ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کریں۔ کیونکہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر بلیک ہول یا ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وغیرہ۔

معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول(valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جا رہے تھے عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقیدہ بھی ثابت ہو رہا تھا۔

اس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کا یہ اعلان دوبارہ تاریخ میں قائم ہوگیا کہ انسانی افکار میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی حقانیت کو رد نہ کر سکے گی۔ آئندہ آنے والا کوئی بھی انقلاب صرف دین خدا وندی کی تصدیق کرے گا۔ وہ کسی بھی حال میں اس کی تردید کرنے پر قادر نہ ہوگا۔

3۔ تیسرا فکری انقلاب جس سے بعد کی تاریخ میں اسلام کا سابقہ پیش آیا وہ سیکولرزم ہے۔ یہ فکر یورپ کی نشأہ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سیکولرزم ایک ایسی تحریک تھی جو بعد کو آنے والی دنیا کے بجائے موجودہ مادی دنیا کو ساری اہمیت دیتی تھی

....a movement in society directed away from other worldlines to this worldlines.(X/19)

سیکولرزم کا نظریہ جدید دنیا پر ایک طاقتور سماجی اور سیاسی فکر کی حیثیت سے چھا گیا۔ نظری اعتبار سے اگرچہ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی ملک کی اجتماعی پالیسی مذہبی امور میں عدم مداخلت(non-interference) کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ مگر عملاً وہ ایک زبردست مخالف مذہب(anti-religious) طاقت بن گیا۔ یہ معلوم ہونے لگا کہ سیکولرزم کی لہر اولاً مذہب کو زندگی کے حاشیہ کی طرف دھکیل دے گی، اور اس کے بعد ایک غیر حقیقی نظریہ کی حیثیت سے مذہب کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔

مگر قرآن کی پیشین گوئی دوبارہ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ دین خدا وندی کا تعلق انسان کی ابدی فطرت سے ہے۔ مذہب کا احساس انسان کے لیے اسی طرح ناقابل تغیر ہے جس طرح پیاس کا احساس انسان کے لیے ناقابل تغیر ہے۔ سیکولرزم کی بنیاد پر بننے والے وسیع ترین ادارے اور انتہائی طاقت ور حکومتیں بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکیں کہ انسان خدائی دین کو چھوڑ کر سیکولرزم کو اپنا مذہب بنا لے۔

اس سلسلہ میں ایک سبق آموز تجربہ وہ ہے جس کی مثال ترکی میں ملتی ہے۔ کمال اتاترک نے ترکی میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد1924ء میں اسلامی اختلاف کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے جارحانہ سیکولرزم کو ملک کی پالیسی قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی طاقت کے زور پر تمام دینی مدرسے اور تمام دینی ادارے یک لخت بند کر دیئے۔ انہوں نے نئی قانون سازی کے ذریعہ ترکی کا پورا نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ حتیٰ کہ ترکوں کے قدیم لباس کو بھی بزور تبدیل کرکے انہیں یورپی لباس پہننے پر مجبور کر دیا۔ اس سلسلہ میں ہر مخالفت کو طاقت کے ذریعہ کچل دیا گیا۔

اتاترک کے انتقال کے بعد ان کے ساتھی عصمت انونو(م 1973ء) ترکی کے صدر مقرر ہوئے۔ انہوں نے بھی پوری وفاداری کے ساتھ اتاترک کی جارحانہ سیکولر پالیسی جاری رکھی۔ مگر تقریباً پچاس سال کی مخالف اسلام حکومتی مہم کے باوجود ترکی میں اسلام زندہ رہا۔ اتاترک کی اسلام کو ختم کرنے کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ حتیٰ کہ خود عصمت انونوکو اپنی آخر عمر میں اس کا اعتراف کرنا پڑا۔ عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انہوں نے اس معاملہ میں اپنا جو تاثر بیان کیا وہ عرب رپورٹ کے مطابق یہ تھا:(اننی اکاد اصدق مااری۔ لقدبذلنا کل مانستطیع لانتزاع الاسلام من نفوس الاتراک و غرس مبادیٔ الحضارۃ الغربیۃ مکانہ۔ فاذا بنا نفاجأ بمالم نکن نتوقعہ۔ فقد غی سنا العلمانیۃ فاثمرت الاسلام)(الوعی الاسلامی، ذوالقعدہ1408ھ)میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں۔ اور اس کی جگہ مغربی تہذیب کو ان کے اندر داخل کر دیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا۔ چناچہ ہم نے تو سیکولرزم کا پودا بویا مگر پھل نکلا تووہ اسلام تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس سلسلہ میں دوسری ناکام مثال سوویت یونین کی ہے۔ اس علاقہ میں اولاً فکری طور پر اور پھر 1917ء سے طاقت ور حکومت کے زور پر اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ کوشش تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ مگر1991 میں خود کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ گیا۔ اور اس کے بعد حیرت انگیز طور پر اس کے ملبہ سے اسلام زندہ حالت میں نکل آیا۔

امریکی میگزین ٹائم(12 مارچ1990ء) نے سوویت علاقہ کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کا خاص مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ نئے روس میں مذہب کی حیثیت کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے 55 ملین سوویت مسلمانوں کا بھی جائزہ لیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس علاقہ میں اسلام دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہوگیا ہے۔ اس باتصویر رپورٹ کی سرخی بامعنی طور پر یہ تھی___ کارل مارکس محمد کو جگہ دیتا ہے

other sourceWords of another person or source

Karl Marx makes room for Muhammad.

اسلام کے خلاف تاریخ کا ہر چیلنج صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلام ابدی طور پر ایک دین مستحکم ہے، اس کو کوئی زیر کرنے والا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content