پیغمبروں کی جو سیرت ہمارے علم میں آتی ہے اس کا ایک پہلو بڑا عجیب ہے۔ ہر پیغمبر اپنی ابتدائی زندگی میں لوگوں کا محبوب بنا ہوا تھا۔ مگر جب اس نے پیغمبری کا کام شروع کیا تو انہیں لوگوں کے درمیان وہ انتہائی مبغوض شخص بن گیا۔ لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی۔ یہی معاملہ پیش آیا۔ پہلے آپ کی قوم آپ کو الامین کہتی تھی۔ مگر جب آپ نے ا ن کو حق کا پیغام دینا شروع کیا تو وہ لوگ آپ کی ہلاکت کے درپے ہوگئے۔
یہ ایک مسلّم بات ہے کہ ہر پیغمبر اپنی سیرت و کردار کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام پر ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان بے ضرر بن کر رہتا ہے۔ وہ لوگوں سے کسی چیز کی مانگ نہیں کرتا۔ اس کا اخلاق اتنا اونچا ہوتا ہے کہ لوگوں کی برائی کا جواب بھی وہ بھلائی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کا وجود سراپا نورانیت میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جب وہ پیغام رسانی کا کام شروع کرتا ہے تو لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔
پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ معروف طور پر صرف ’’کافروں‘‘ کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ ٹھیک یہی معاملہ خود’’مسلمانوں‘‘ کے درمیان بھی پیش آتا ہے۔ حضرت مسیحؑ جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوئے وہ قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ مگر انہوں نے حضرت مسیح کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ آپ کو ذلیل کیا۔ آپ پر تھوکا۔ آپ پر مشرکوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا۔ حتیٰ کہ آپ کو قتل کر دینا چاہا۔
پیغمبروں کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف لوگوں کے غصہ اور دشمنی کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانہ میں تنقید کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی قوم شروع میں دور نہیں ہوئی تھی۔ مگر جب آپ نے ان کے معبودوں کا تذکرہ کیا اور ان پر عیب لگایا تو اس کو انہوں نے بہت برا مانا۔ اس کے بعد وہ آپ کے دشمن ہوگئے : حَتَّى ذَكَرَ آلِهَتَهُمْ وَعَابَهَا، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ أَعْظَمُوهُ وَنَاكَرُوهُ، وَأَجْمَعُوا خلافَه وَعَدَاوَتَهُ (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ238)۔
ابن اسحاق نے جس چیز کو عیب لگانا کہا ہے اور جس کو مکہ کے مشرکین سب و شتم کہتے تھے، وہ آجکل کی زبان میں تنقید تھی۔ ہر نبی کا یہ طریقہ تھا کہ وہ مطلوب کی طرف بلاتے ہوئے غیر مطلوب پر تنقید کرتا تھا۔ یہی تنقیدی اسلوب تھا جس نے لوگوں کو پیغمبروں کا دشمن بنا دیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔