قران میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے نمونہ ہے(الاحزاب، 33:21)۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے نمونہ لینے کے لیے گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی کے اندر گہری سمجھ نہ ہو تو وہ بظاہر قرآن کا یا سنت رسول کا نام لے گا مگر حقیقۃً اس کے عمل کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ وہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے ۔ مثلاً ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے مگر آپ نے کبھی کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو نکال کر پھینکنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر اسی پیغمبر کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد آپ کے حکم سے کعبہ کے تمام بت نکال کر باہر پھینک دیئے گئے۔ ایک طرف ہم آپ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ مکی دور کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کے مکان کو تلوار لے کر گھیر لیتے ہیں اس وقت آپ خاموشی سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہی مخالفین احد کے موقع پر جب تلوار لے کر آتے ہیں تو آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں اس طرح کے مختلف نمونے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کے نمونہ کو اپنانے کے لیے اس حکمت کو جاننا ضروری ہے کہ کون سا نمونہ کس موقع کے لیے ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ بصیرت نہ ہو تو بظاہر وہ سنت رسول پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے گا۔ مگر حقیقۃً وہ سنت رسول سے آخری حد تک دور ہوگا۔
جو شخص سنت کو سمجھنے کی بصیرت سے محروم ہو اس کا حال یہ ہوگا کہ جس موقع پر صبر کی سنت درکار ہوگی وہاں وہ قتال کی آیت کا حوالہ دے گا۔ جن حالات میں دعوت کی سنت مطلوب ہوگی وہاں وہ جہاد کی سنت پر تقریر کرے گا۔ جہاں صلح کی سنت پر عمل کرنا چاہیے وہاں وہ جنگ کی سنت پر عمل کرنے کا نعرہ لگائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بلاشبہ بہترین نمونہ ہے۔ مگر یہ نمونہ انہیں لوگوں کے لیے نمونہ بنے گا جو اس معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہوں۔ جن میں یہ مزاج نہ ہو کہ وہ اپنی خواہش کے لیے سنتِ رسول میں نمونہ تلاش کریں، بلکہ سنت رسول کے نمونہ پر اپنی خواہش کو ڈھالیں۔ جو اپنے آپ کو سنت رسول کے سامنے جھکانے کا مزاج رکھتے ہوں جو دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول کو اپنی زندگی کا رہنما بنا لیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔