← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
حدیبیہ منہاج
Urdu · 30 min
ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کی مشہور کتاب(The 100) کا تعارف غالباً مسلم دنیا میں سب سے پہلے الرسالہ(اکتوبر1978) میں چھپا۔ اس میں امریکی مصنف نے تاریخ کے ایک سو انتہائی ممتاز آدمیوں کا انتخاب کیا ہے۔ اور ان پر مضامین لکھے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے اپنی فہرست میں نمبر ایک پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ محمدؐ تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان(supremely successful man) تھے۔
other sourceWords of another person or source
الرسالہ میں اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہمارے پاس کثرت سے مسلمانوں کے خطو ط آئے۔ ہر خط میں یہ پوچھا گیا تھا کہ مذکورہ کتاب کو حاصل کرنے کا پتہ کیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے اردو ترجمہ کی بابت دریافت کیا۔ تاہم لوگوں کی تحریروں سے اندازہ ہوا کہ ہر مکتوب نگار کو صرف سپریملی سکس فل انسان سے دلچسپی تھی، ان میں سے کسی کو بھی اس سے دلچسپی نہ تھی کہ وہ اس سپریملی سکس فل انسان کی سپریم سکس کار از معلوم کرنے کی کوشش کرے۔
یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ اور اس مزاج کا سبب ہیرو ورشپ کی نفسیات ہے۔ موجودہ مسلمانوں نے رسول اور اصحاب رسول کو اپنا ہیرو بنا لیا ہے نہ کہ اپنا عملی نمونہ۔ یہ دراصل ان قوموں کی نفسیات ہے جو خود کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔ ایسے لوگ اپنی تاریخی شخصیتوں کے پرعظمت تذکرہ کو اپنے لئے تسکین کا سامان بنا لیتے ہیں۔ کسی نے نہایت صحیح کہا ہے کہ تاریخ ان لوگوں کی پناہ گاہ ہے جنہوں نے خود کچھ زیادہ نہ کیا ہو جس کی وہ تقریب منائیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
History is often the refuge of those who have not done much themselves to celebrate.
امت مسلمہ جب زندہ حالت میں ہو تو اس کا پیغمبر اس کے لئے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ اور امت مسلمہ کے لوگ جب زندہ حالت پر باقی نہ رہیں تووہ اپنے پیغمبر کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسی دوسری حالت میں مبتلا ہیں۔
موجودہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیا ہے۔ اور فخر کے جذبہ کی تسکین اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ کو سپریملی سکس فل کہا جائے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو اسوہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے نہ کہ فخر کے طور پر۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) ۔مگر موجودہ مسلمانوں نے اپنی تشریح میں اس کو بدل کر (لقدکان لکم فی رسول اللّٰہ مفخرۃ حسنۃ) بنا دیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی تعلیم کے مطابق، ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سپریم سکسس کا راز کیا تھا۔ کیونکہ اس راز کو جان کر ہی ہم دوبارہ اسلام کو اعلیٰ کامیابی کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔
اس سوال کو لے کر جب ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے قرآن کی وہ سورہ آتی ہے جس کا نام الفتح ہے۔ اس سورۃ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ: ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی(إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً) 48:1۔ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپریم سکسس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپریم سکسس کس طرح حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں اتری تھی۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کاراز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انہوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا۔ بلکہ وہ تمام فتحوں میں سب سے بڑی فتح ہے(قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ مُنْصَرَفِهِمْ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ: مَا هَذَا بِفَتْحٍ، لَقَدْ صَدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم:بَلْ هُوَ أَعْظَمُ الْفُتُوحِ) تفسير القرطبي ،جلد16،صفحہ260۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
البراء بن عازب صحابی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ (اصحاب رسول) حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4150)۔ ابن شہاب زہری تابعی نے کہا کہ اسلام میں صلح حدیبیہ کو فتح اعظم کا درجہ حاصل ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر324/3)
quoted sourceQuoted from another author or source
یہ جو کچھ کہاگیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو جو عظیم کامیابی ملی، اس کاراز صلح حدیبیہ تھا۔ اسلام کا قافلہ حدیبیہ سے گزر کر فتح اعظم کے درجہ کو پہنچا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اہل اسلام کے لئے فتح اعظم یا سپریم سکسس کے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ حدیبیہ منہاج کو اختیار کریں۔
اب غور کیجئے کہ حدیبیہ منہاج کیا ہے۔ یہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اصحاب رسول جیسے فدا کاروں کا گرو بھی اس معاملہ میں وقتی طور پر متزلزل ہوگیا اور نہایت دشواریوں کے ساتھ اس امتحان میں پورا اتر سکا۔
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کے محاذ آئے جس میں انہیں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول کسی سستی اور تذبذب کے بغیر اس میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے خون بہا کر اپنی جان بازی اور قربانی کا ثبوت دیا۔
دوسری طرف تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ کر لیا اور عمرہ کئے بغیر مدینہ کی طرف واپس جانے پر راضی ہوگئے تو ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضا مندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دباؤ کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔
یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر واحد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر واحد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہوگیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر واحد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور سارسی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل جان کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن وقار کی قربانی اتنی زیادہ مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں چند اللہ کے بندوں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا جو واقعی رضا مندی کے ساتھ وقار کی قربانی دینے پر آمادہ ہو جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی قربانی میں آدمی ہیرو بن رہا ہوتا ہے جب کہ وقار کی قربانی میں وہ اچانک زیر و بن جاتا ہے۔ جان کی قربانی میں وہ اپنے آپ کو فتح کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے اور وقار کی قربانی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے خود اپنے فیصلہ سے شکست کو قبول کر لیا۔ جان کی قربانی بظاہر ایک عزت کا عمل ہے اور وقار کی قربانی اس کے برعکس بے عزتی کا عمل۔ جان کی قربانی میں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور وقار کی قربانی میں پیچھے ہٹ جانا۔ جان کی قربانی میں اقدام کا سہرا بندھتا ہے اور وقار کی قربانی میں پسپائی کا الزام سہنا پڑتا ہے___ یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی چھوٹی قربانی ہے اور وقار کی قربانی زیادہ بڑی قربانی۔
یہ ایک معلوم بات ہے کہ جتنی بڑی قربانی اتنی ہی بڑی کامیابی۔ سب سے بڑی کامیابی کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ سب سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہو۔ رسول اور اصحاب رسول نے چونکہ حدیبیہ کے موقع پر سب سے بڑی قربانی دی اسی لئے وہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔
حدیبیہ منہاج میں وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ فتح مبین کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس کا سراغ اس واقعہ میں ملتا ہے کہ ذوالقعدہ6ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ کا سفر فرمایا، اس وقت آپ کے ساتھ جو مردان کار تھے، ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی۔ مگر اس کے دو سال سے بھی کم عرصہ بعد رمضان8ھ میں جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ مردان کار کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ پہلے سفر میں اہل مکہ نے آپ کو حدیبیہ کے مقام سے لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسرے سفر میں آپ کے عظیم قافلہ کو دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کے بغیر انہوں نے شکست قبول کرلی۔
اس سے معلوم ہوا کہ حدیبیہ منہاج انسانی تسخیر کا منہاج ہے۔ حربی منہاج میں انسانوں کے جسم کو قتل کیا جاتا ہے۔ اور حدیبیہ منہاج میں انسانوں کی روح کو مسخر کیا جاتا ہے۔ جنگ کا منہاج یہ ہے کہ دشمن کا خاتمہ کرکے اس کے اوپر قبضہ کیا جائے۔ حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ دشمن کو دوست بنا کر اس کو اپنی صف میں شامل کر لیا جائے۔ جنگ کے منھاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کی گردن پر ہوتا ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کے قلوب پر۔ جنگ کا منہاج دوسروں کو مٹا کر اپنا غلبہ قائم کرنا ہے اور حدیبیہ کا منہاج لوگوں کو شریک کرکے حق کو سربلند کرنا ہے۔ جنگ کا منہاج اگر صرف میں کا نام ہے تو حدیبیہ منہاج میں اور آپ دونوں کا نام۔ جنگ کے منہاج میں نفرت کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں محبت کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
حدیبیہ کا واقعہ نبوت کے تقریباً20 سال بعد پیش آیا۔ غور کیجئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ حدیبیہ منہاج کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو اس سے ایک اور عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس معاملہ کا سراغ سورہ الفتح کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اس میں اصحاب رسول کو مخاطب کرکے بتایا گیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کے سرداروں نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو یہ ممکن تھا کہ تم کو جنگ کی اجازت دیدی جائے اور اللہ کی مدد سے تمہیں فتح بھی حاصل ہو۔ مگر ایک خاص مصلحت کی وجہ سے تم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں اس وقت بہت سے مرد اور عورت تھے جن کے دل میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ مگر انہوں نے چونکہ ابھی اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا، اس لئے تم ان کو نہیں جانتے تھے۔ گویا کہ امکانی طور پر وہ مسلمان تھے۔ اگر دونوں فریقوں میں جنگ چھڑتی تو یہ لوگ بھی اس میں مارے جاتے۔ تم لاعلمی میں اہل انکار کے ساتھ اہل اقرار کو بھی پیس ڈالتے۔ اور بلاشبہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا۔(الفتح25-22)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر فرمایا کہ اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی(فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا) 48:27۔اس علم کی بنا پر حدیبیہ کے موقع پر یہ ہدایت دی گئی کہ یک طرفہ شرط ماننا ہو تب بھی اس کو مان کر سرداران مکہ سے صلح کر لو۔ تاکہ ان امکانی مسلمانوں کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اپنے پوشیدہ ایمان کا اعلان کرکے اسلام کی صفوں میں داخل ہو جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس صورت حال کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے لوگ(بنو اسماعیل) عموماً سادہ مزاج تھے اور اپنی فطرت پر قائم تھے۔ ان کا شرک اوپری قسم کا تھا، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ان کے اندر سرایت نہیں کر سکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ وہ سادہ قسم کے سوالات کرتا ہے اور اس کے بعد یا تو آپ کی صداقت کا اعتراف کر لیتا ہے یا اسی وقت کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔
مثلاً عمرو بن عبسہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اولاً مکہ میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ اور آپ سے کہا کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو بتایا ہے اس میں سے مجھے بتایئے(علّمِنیِ ممّا عَلّمک اللہ) آپ انہیں توحید، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کی باتیں بتاتے ہیں۔ وہ فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ کتنی اچھی یہ باتیں ہیں جن کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے(نِعْمَ ما أُرْسِلْتَ به) الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد4، صفحہ204۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح کے واقعات کثرت سے سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم عربوں کا بگاڑ اوپری نوعیت کا تھا۔ ان کی اصل شخصیت فطری حالت پر قائم تھی اور معمولی تحریک سے حق کو پہچان لیتی تھی۔
قدیم عربوں کی اسی سادگی کا نتیجہ تھا کہ ان کے چند سرداروں کو چھوڑ کر عام عربوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار زیادہ تر غلط فہمی کی بنا پر تھا، نہ کہ حقیقۃً سرکشی کی بنا پر ۔اپنے اسی مزاج کی بنا پر انہیں یہ جرأت ہوئی کہ بدر کی جنگ سے پہلے وہ دعا کریں جس کا ذکر سورہ انفال (9:19)میں کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے لوگ جب ایک ہزار کی تعداد میں مکہ سے نکل کر بدر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ رسول اور اصحاب رسول سے جنگ کریں تو وہ بیت اللہ میں گئے۔ اور کعبہ کے پردے کو پکڑ کر دعائیں کیں۔ اس دعا میں انہو ں نے کہا کہ اے اللہ دونوں گروہوں میں سے جو گروہ زیادہ ہدایت پر ہو اور دونوں دینوں میں سے جو دین زیادہ افضل ہو، تو اس کی مدد فرما اور اس کو فتح دے(فَإِنَّهُمْ لَمَّا نَفَرُوا إِلَى نُصْرَةِ الْعِيرِ تَعَلَّقُوا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَقَالُوا: اللَّهُمَّ اُنْصُرْ أَهْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَأَفْضَلَ الدِّينَيْنِ (دلائل النبوة للبيهقي،جلد3،صفحہ75)۔اس کے بعد جب دونوں فریقوں میں ٹکراؤ ہوا تو اہل ایمان کو فتح اور اہل شرک کو شکست ہوئی۔ چنانچہ قرآن میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ: اگر تم فیصلہ چاہتے تھے۔ تو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے(8:19)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنگ بدر کی اسی خصوصیت کی بنا پر اس کو یوم الفرقان(8:41) کہا گیا ہے۔ جنگ بدر میں واضح فیصلہ آنے کے بعد عرب کے لوگ، تھوڑے سے سرداروں کو چھوڑ کر، سخت متزلزل ہوگئے۔ ان کا یہ خیال ہوگیا کہ صداقت ہماری طرف نہیں ہے بلکہ محمدؐ کی طرف ہے۔ اس طرح بدر کے بعد عربوں کی اکثریت دین توحید کی طرف مائل ہوگئی۔ تاہم کچھ جابر اور سرکش سرداروں کے خوف سے ہر ایک اپنے ایمان کو چھپائے رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ قدیم عرب (بنو اسماعیل) اپنی سادگی اور اپنے فطری مزاج کی بنا پر اول روز ہی سے امکانی طور پر مومن تھے۔ اس کے بعد بدر کے موقع پر خدا سے استفتاح جب الٹی شکل میں برآمد ہوا تو ان کا ابتدائی میلان زیادہ طاقتوررجحان میں تبدیل ہوگیا۔ وہ امکانی طور پر اسلام کے دروازہ پر پہنچ گئے۔
اب مسئلہ صرف ایک تھا، اور وہ سردار ان قریش کا تھا۔ وہ اپنی قیادت اور برتری کو قائم رکھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑے ہوئے تھے اور بظاہر اس پر راضی نہ تھے کہ آپ کا اور آپ کے موحدانہ مشن کا خاتمہ کئے بغیر وہ اپنی جنگ جوئی کو ختم کر دیں۔ انہیں سرکش سرداروں کے خوف سے مکہ اور اطراف مکہ کے لوگ اسلا م قبول کرنے سے گھبراتے تھے۔
کسی ندی میں پانی بہہ کر آئے اور بیراج کے آہنی گیٹ پر رک جائے۔ اب ایک طرف پانی کے ذخائر ہیں اور دوسری طرف کھیت اور باغات۔ ایسی حالت میں اگر روک دروازہ کو ہٹا دیا جائے تو پانی کا سیلاب اپنے آپ بہہ کر کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ پانی کے ذخیرہ کو ھکا دے کر آگے بڑھایا جائے۔
اس وقت قریش کی جنگ جوئی اسی قسم کے ایک روک دروازہ (trap door) جیسی ہوگئی تھی۔ مسئلہ صرف دریائی روک کو ہٹانے کا تھا۔ روک کے ہٹنے کے بعد یقینی تھا کہ ہدایت کا سیلاب اپنے آپ یلغار کرکے لوگوں کے دلو ں میں داخل ہو جائے گا۔
قریش سے جنگ جاری رکھنے کے لئے خون کی قربانی درکار تھی۔ اور جنگ کی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے وقار کی قربانی کا مسئلہ تھا۔ کیونکہ جنگ دو طرفہ بنیاد پر ہرگز ختم نہیں ہو سکتی جنگ کو ختم کرنے کی واحد صورت یہ تھی کہ اس کو وقار کا مسئلہ بنایا جائے اور یک طرفہ طور پر اپنے وقار کی قربانی دے کر قریش مکہ سے صلح کر لی جائے۔ صلح حدیبیہ اسی قسم کا ایک دور رس معاملہ ہے۔
حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے جب رکاوٹ ختم نہ کی جا رہی ہو تو داعی یک طرفہ جھکاؤ کے ذریعہ اپنی طرف سے رکاوٹ کا خاتمہ کر دے۔
hadithQuotes a hadith
اس وقت صورتحال یہ تھی کہ مسلمان اپنے سینہ میں یہ غم لئے ہوئے تھے کہ مکہ کے سرداروں نے ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ ان کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا۔ لڑائیاں چھیڑ کر ان کی عورتوں کو بیوہ اور ان کے بچوں کو یتیم کیا۔ مکہ جا کر عمرہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اس قسم کے واقعات انہیں اس پر اکسا رہے تھے کہ قریش سے لڑ کر انتقام لیں اور انہیں ان کے کئے کا سبق دیں۔
دوسری طرف یہ صورتحال تھی کہ اگر مسلمان اپنے غموں اور شکایتوں کو بھلا دیں اور اپنے شکایتی جذبات کو دبا کر یکطرفہ طور پر خاتمہ جنگ کے لئے راضی ہو جائیں تو اس کے بعد معتدل فضا پیدا ہو جائے گی۔ معتدل فضا پیدا ہونے کے بعد اسلام کے تعارف کا کام تیزی سے بڑھ جائے گا۔ لوگ جو پہلے ہی سے اسلام کے قریب آ چکے ہیں، حالات کی موافقت انہیں تیزی سے اسلام کی طرف لانا شروع کر دے گی۔
قتال نام ہے خون کی قربانی دے کر اسلام کا دفاع کرنے کا۔ حدیبیہ نام ہے وقار کی قربانی دے کر خدا کے بندوں کے لئے خدا کے دین کا دروازہ کھولنے کا۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ثانی الذکر قربانی اول الذکر قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔
مسلم نے ابو ہریرہؓ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پسند ہے کہ ہم اپنے اخوان(بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ کیاہم آپؐ کے اخوان نہیں ہیں اے خدا کے رسول۔ آ پؐ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے(وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا" قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ "أَنْتُمْ أَصْحَابِي. وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ) صحيح مسلم،حدیث نمبر249۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوراوپر ایمان رکھیں اور انہوں نے مجھ کو دیکھا نہ ہوگا(يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا آمَنَّا بِكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ؟ قَالَ: قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3538۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس حدیث میں لَم یرَوۡنیِ محض لفظی معنوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کو کسی معنوی مفہوم میں لیا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پیغمبر کی منشاء کو دور اول کے اصحاب رسول نے براہ راست طور پر پیغمبر کو دیکھ کر اور اس سے سن کر مانا تھا، اس پیغمبر کی منشاء کو بعد کے اخوان رسول دیکھے اور سنے بغیر ذاتی دریافت کے ذریعہ معلوم کریں۔ اس معاملہ کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہوتی ہے۔
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کا محاذ آیا۔ یہ محاذ جان کی قربانی کا طالب تھا۔ اصحاب رسول نے بلاتامل یہ قربانی پیش کر دی۔ پیغمبر کا اشارہ پاتے ہی وہ بدر واحد کے میدان جہاد میں کود پڑے۔ پھر کسی کو اللہ نے شہادت دی، اور کوئی اس سے غازی بن کر واپس آیا۔
انہیں اصحاب رسول کے سامنے دوسرا محاذ وہ آیا جس کو ارباب سیر’’غزوۃ الحدیبیۃ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ دوسرا محاذ بھی قربانی کا محاذ تھا۔ البتہ ظاہری طور پر دونوں میں فرق تھا۔ اس دوسرے محاذ پر صرف ایک ابوبکر صدیق کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ وہی لوگ جنہوں نے پہلے محاذ پر یقین کا مظاہرہ کیا تھا، اس دوسرے محاذ پر شدید تردد میں پڑ گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر کے ذاتی اور شخصی زور پر انہوں نے اس کو قبول کیا۔
آج یہی تاریخ دوبارہ مسلمانوں کی طرف لوٹ آئی ہے۔ آج ایک طرف ساری دنیا میں ایسی روحیں موجود ہیں جو بظاہر غیر مسلم ماحول میں ہیں۔ مگر ان کی فطرت دین حق کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان ساری دنیا میں نزاع اور ٹکراؤ جاری ہے۔ اس نزاع اور ٹکراؤ نے اس معتدل فضا کا خاتمہ کر دیا ہے جس میں مذکورہ قسم کے غیر مسلم کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول کر لیں۔
اب آج مسلمانوں کو دوبارہ وہی قربانی دینا ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت اصحاب رسول نے دی تھی۔ ان کو ذاتی شکایتوں کو بھلا دینا پڑا تھا۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ذاتی اور قومی شکایتوں کو بھلا دیں تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو سکیں۔
صحابہ کرام نے رسول اللہؐ کو دیکھ کر اور آپ کی براہ راست ذاتی ہدایت پر صبر کی قربانی دی تھی۔ آج مسلمانوں کو رسول اللہ کو دیکھے بغیر صرف آپ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہی صبر والی قربانی دینا ہے۔ آج کے مسلمان اگر یہ قربانی دے سکیں تو وہ مذکورہ حدیث کے مطابق اخوان رسول قرار پائیں گے، اور بلاشبہ کسی مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت نہیں ہو سکتی کہ قیامت کے دن اس کا استقبال اخوان رسول کی حیثیت سے کیا جائے۔