پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلزم کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پریگمیٹک حل(Pragmatic solution) پر راضی ہو جاؤ۔ یہ آپ کی ایک اہم سنت ہے اور آپ کی پوری زندگی اس سنت کی مثال نظر آتی ہے۔
جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، آپ نے اس میں یہ الفاظ لکھوائےهَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ۔ قریش کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو خدا کا رسول نہیں مانتے۔ اس لیے آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھوایئے۔ آپ نے محسوس کیا کہ اگر میں رسول اللہ کے لفظ پر اصرار کروں تو صلح کا معاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹا دیا اور اس کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھوا دیا (مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو عظیم کامیابی حاصل کی اس میں اس سنت کا بڑا دخل ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں بے شمار لوگ ہیں اور ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے یہاں عملی معاملات میں پریگمیٹزم کا اصول اختیار کیے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل کرناممکن نہیں۔
پریگمیٹک سولیوشن یا عملی حل کو ماننا کوئی تنزل کی بات نہیں ہے۔ یہ حقیقت پسندی کی بات ہے، اور اس دنیا میںحقیقت پسندی ہی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔