صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ قرآن جب اترنا شروع ہوا تو اس میں سب سے پہلے وہ آیتیں اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ اس طرح(تقریباً15 سال بعد) جب لوگو ں کے دل نرم ہوگئے تو اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ زنا چھوڑ دو اور شراب چھوڑو۔ اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ اگر قرآن میں یہ احکام شروع ہی میں اتار دیے جاتے تو عرب کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے، ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے(لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا…ولَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا)صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کا نفاذ ہمیشہ ترتیب و تدریج کے اصول پر کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کے دلوں میں اس کی آمادگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد عملی طور پر اس کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ کوڑے اور بندوق کے زور پر کبھی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص ایک غیر تیار شدہ معاشرہ میں محض طاقت کے زور پر شریعت کے احکام کو نافذ کرنا چاہے تو یہ سنت رسولؐ کے خلاف ہوگا۔ اور سنت رسولؐ کی خلاف ورزی کرکے کوئی کامیابی اس دنیا میں ممکن نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔