پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔ مگر مکہ کے سردار اب بھی خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ کئی بار دونوں طرف کی فوجوں میں ٹکراؤ ہوا۔ مگر جنگ کے ذریعہ آخری فیصلہ نہ ہو سکا۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے وہ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا ناجنگ معاہدہ تھا۔ اس معاہدہ کے ذریعہ آپ نے فریق ثانی کے ساتھ میدان مقابلہ کو بدل دیا۔ اب تک دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں پیش آ رہا تھا۔ اب دونوں کا مقابلہ نظریاتی میدان میں منتقل ہوگیا۔ اس معاہدہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانہ پر ملنا جلنا شروع ہوگیا۔ اس اختلاط کے دوران اسلام کی نظریاتی برتری اپنے آپ ثابت ہونے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اہل اسلام کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور فریق ثانی کی تعداد مسلسل گھٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ مزید جنگ کے بغیر محض عوامی طاقت سے اہل اسلام غالب آگئے۔
اس سنتِ رسولؐ کا مطلب یہ ہے کہ حریف سے ایک میدان میں مقابلہ اگر موثر نہ ہو رہا ہو تو مقابلہ کے میدان کو بدل کر اس کو اپنے موافق میدان میں لایا جائے جہاں اہل اسلام اپنی کوششوں کو زیادہ موثر بنا سکیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.