پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان موجودہ اردن میں ایک جنگ پیش آئی جس کو غزوۂ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں چند دن کے اندر بارہ اصحاب شہید ہوگئے۔ اس کے بعد خالد بن الولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انہوں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار ہے اور رومیوں کی تعداد دو لاکھ ہے۔ یہ فرق ناقابل عبور حد تک غیر متناسب(out of proportion) تھا۔ چنانچہ خالد بن الولید نے مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔
یہ لوگ جب واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینہ کے کچھ لوگوں نے ان کا استقبال يَا فُرَّارُ(اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالَيْسُوا بِالْفُرَّارِ، وَلَكِنَّهُمْ الْكُرَّارُ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى(سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 382)۔ وہ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ دوبارہ اقدام کرنے والے ہیں۔
مدینہ کے مذکورہ مسلمان دراصل ثنائی طرز فکر(dichotomous thinking) میں مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے لیے صر ف دو میں سے ایک کا آپشن(انتخاب) ہے۔ پہلا آپشن یہ کہ دشمن سے بہادرانہ طور پر لڑا جائے۔ اور دوسرا آپشن یہ کہ ہمت ہار کر بزدلانہ پسپائی اختیار کی جائے۔ چونکہ دوسرا آپشن غیر محمود تھا اس لیے ان کا خیال تھا کہ مسلم لشکر کو پہلے آپشن پر ہی قائم رہنا چاہیے تھا خواہ وہ ان کا ایک ایک شخص لڑتے لڑتے اپنی جان دے دے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک تیسرا آپشن بھی ہے۔ اوروہ یہ کہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر مزید تیاری کی جاے تاکہ آئندہ زیادہ موثر انداز میں اقدام کیا جا سکے۔ خالد بن الولید کی موتہ سے واپسی فرار کی طرف واپسی نہیں تھی بلکہ وہ اسی تھرڈ آپشن کی طرف واپسی تھی۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم جماعت نے تین سال بعد مزید تیاری کے ساتھ اسامہ ابن زید کی سرداری میں دوبارہ رومی سرحد کی طرف اقدام کیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔