پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مکہ میں سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ وہاں کے مخالفین آپ کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ اس وقت آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔
یہ ہجرت سادہ طور پر ترکِ وطن نہ تھی۔ یہ دراصل ایک اسٹریٹجی کا معاملہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں مقام عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب مکہ کو ایک ناموافق مقام پایا تو آپ نے مدینہ کو اپنا مرکز بنا لیا تاکہ وہاں سے اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔
اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ ایک جگہ کے لوگ اگر ضد اور مخالفت کی آخری حد پر آ جائیں تو یہ صحیح نہ ہوگا کہ اہل اسلام وہیں ان سے لڑ کر ہلاک ہو جائیں۔ بلکہ انہیں دوسری مناسب جگہ تلاش کرکے وہاں اپنا اسلامی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہ طریقہ ایک طرف اصل مشن کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے، دوسری طرف اس میں یہ امکان بھی چھپا ہوا ہے کہ’مدینہ‘ میں استحکام حاصل کرنے کے بعد’مکہ‘ بھی آخر کار قبضہ میں آ جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.