Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

فطرت پر اعتماد

Urdu · 3 min

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بار بار یہ تجربہ ہو رہا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ اشتعال انگیز کلمات کہنا، پتھر مارنا، راستہ میں رکاوٹ ڈالنا، وغیرہ۔ اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ :تم برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے۔(فصلت،41:34)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس ہدایت میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے وہ یہ کہ کوئی انسان بظاہر مخالف اور دشمن کیوں نہ ہو اس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت بہرحال موجود رہتی ہے۔

فطرت ہمیشہ حق پسند ہوتی ہے۔ اس طرح گویا ہر ظاہری دشمن کے اندر تمہارا ایک مخفی دوست موجود رہتا ہے۔ اگر تم حق کے داعی ہو تو پیشگی طور پر یہ یقین کر لو کہ تمہاری دعوت کا ایک مثنٰی (counterpart) یقینا فریق ثانی کے سینہ میں موجود ہوگا۔

مخالف انسان کے اندر اس موافق انسان کو پانے کی یقینی تدبیر یہ ہے کہ تم اس کے برے سلوک کے جواب میں اپنی طرف سے اچھا سلوک کرو۔ تمہارا اچھا سلوک اس کے ظاہری پردے کو ہٹا دے گا۔ اور پھر اندر سے تمہارا ایک دوست انسان نکل آئے گا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دور اول میں ہزاروں لوگ صرف اسی اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اسلام میں داخل ہوئے۔ مثلاً ایک مشرک نے آپ کو تنہا پا کر آپ کے اوپر تلوار اٹھائی۔ مگر اس پر قابو پانے کے بعد آپ نے اس کو معاف کر دیا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 9112)۔ اسی وقت اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وغیرہ۔ دور اول میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آئے جن کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content