پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بار بار یہ تجربہ ہو رہا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ اشتعال انگیز کلمات کہنا، پتھر مارنا، راستہ میں رکاوٹ ڈالنا، وغیرہ۔ اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ :تم برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے۔(فصلت،41:34)
اس ہدایت میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے وہ یہ کہ کوئی انسان بظاہر مخالف اور دشمن کیوں نہ ہو اس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت بہرحال موجود رہتی ہے۔
فطرت ہمیشہ حق پسند ہوتی ہے۔ اس طرح گویا ہر ظاہری دشمن کے اندر تمہارا ایک مخفی دوست موجود رہتا ہے۔ اگر تم حق کے داعی ہو تو پیشگی طور پر یہ یقین کر لو کہ تمہاری دعوت کا ایک مثنٰی (counterpart) یقینا فریق ثانی کے سینہ میں موجود ہوگا۔
مخالف انسان کے اندر اس موافق انسان کو پانے کی یقینی تدبیر یہ ہے کہ تم اس کے برے سلوک کے جواب میں اپنی طرف سے اچھا سلوک کرو۔ تمہارا اچھا سلوک اس کے ظاہری پردے کو ہٹا دے گا۔ اور پھر اندر سے تمہارا ایک دوست انسان نکل آئے گا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دور اول میں ہزاروں لوگ صرف اسی اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اسلام میں داخل ہوئے۔ مثلاً ایک مشرک نے آپ کو تنہا پا کر آپ کے اوپر تلوار اٹھائی۔ مگر اس پر قابو پانے کے بعد آپ نے اس کو معاف کر دیا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 9112)۔ اسی وقت اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وغیرہ۔ دور اول میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آئے جن کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔