پیغمبر اسلام اور آپ کے ابتدائی اصحاب نے مکہ میں توحید کی دعوت دینا شروع کیا تو وہاں کے لوگوں کی طرف سے سخت ردعمل پیش آیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ مکہ کی سرزمین اسلام کے لیے صرف مشکلات و مصائب کی سرزمین ہے۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنما آیت اتری کہ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مشکل کے ساتھ آسانی ہے(فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً ۔إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً)94:5-6۔
اس سے پیغمبر کے فاتحانہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی بھی صرف مشکلوں کی آماجگاہ نہ بنے۔ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ عین اسی وقت آسانی بھی ضرور پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جہاں بظاہر ڈس ایڈوانٹج ہو وہیں عین اسی کے ساتھ ایڈوانٹج کی صورتیں بھی ضرور موجود ہو۔
’عسر میں یسر‘ کی مثال یہ ہے کہ مکہ میں اگر ابو جہل جیسے منکر تھے تو وہیں عمر جیسے اعتراف کرنے والے بھی موجود تھے۔ اس وقت اگر کعبہ سے بتوں کو نکالنا مشکل تھا تو عین اسی وقت یہ ممکن تھا کہ لوگوں کے د لوں سے غیر اللہ کی پرستش کا جذبہ نکالا جائے۔ اسی طرح دور اول میں اہل اسلام کو عرب میں جو مشکلیں پیش آئیں وہ چیلنج بن کر اہل اسلام کی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن گئیں۔ یہاں تک کہ، مارگولیتھ کے الفاظ میں ان میں کا ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔
سیرت کا کام یہ پہلو بتاتا ہے کہ اہل اسلام جب اپنے آپ کو مسائل کے درمیان پائیں تو ان کو پیشگی طور پر یقین کرنا چاہیے کہ یہاں عین مسائل کے ساتھ ہی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کو چاہیے کہ مسائل کے خلاف فریاد کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کریں اور ان کو استعمال کرکے اپنی تاریخ کو آگے بڑھائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔