پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت عرب میں مختلف مسائل تھے___ کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر نے عرب میں سیاسی نفوذ حاصل کر رکھا تھا۔ معاشرہ میں سود، زنا، شراب خوری جیسے جرائم پھیلے ہوئے تھے۔
مگر قرآن میں آپ کے اوپر پہلا حکم اترا تو وہ یہ نہیں تھا کہ: طہر الکعبۃ من الاصنام یاقاتل الفرس والرومان، یانفذ خدوداللہ علی المجرمین۔ اس کے برعکس آپ کے اوپر پہلا حکم جو اتارا گیا وہ قرأت اور تعلیم کے بارے میں تھا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔خَلَقَ الْإِنْسانَ مِنْ عَلَقٍ ۔اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔عَلَّمَ الْإِنْسانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(96:1-5)۔یعنی، پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔
اس سے معلو م ہوا کہ اسلامی عمل(Islamic activism) کا صحیح نقطہ آغاز یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے۔ بعثت کے وقت جو حالات تھے اس کے اعتبار سے تطہیر مسجد، سیاسی استقلال، اور تنفیذ حدود کا کام، مطلوب ہونے کے باوجود، عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ البتہ تعلیم اور دعوت سے آغاز کرنا پوری طرح دائرہ امکان میں تھا۔ آپ نے، اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں ناممکن کو چھوڑ کر ممکن سے عمل اسلامی کا آغاز کیا۔ انگریزی کا مقولہ ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے(politics is the art of possible) میں کہوں گا کہ عمل اسلامی کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے
Prophetic way of beginning is to begin from the possible.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔