← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
ایک گواہی
Urdu · 7 min
امریکہ کے سفر میں مجھے ایک امریکی خاتون کا حال معلوم ہوا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب وہ ایک پاکستانی مسلمان نصیر احمد مرزا سے نکاح کرکے اوٹا(Utah) میں رہتی ہیں۔ ان کا نام جے عائشہ مرزا(jeanine Aisha Mirza) ہے۔ ان کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم بیویاں زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ مگر ان کے نزدیک یہ خیال درست نہیں۔ یہ تو محض ایک تقسیم ہے۔ گھر کے باہر میرا شوہرباس ہے۔ لیکن گھر کے اندر میں باس ہوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
While most Americans are under the impression that Muslim wives are opressed. Mirza said, she hasn`t found that to be true. "It`s just a different division. Outside the home, my husband`s the boss. But in my house, I`m the boss."
other sourceWords of another person or source
اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرنے میں متردد رہتی ہیں۔ کیونکہ انہیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ لڑکے وہ ہیں جو تعلیم کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔ کیونکہ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں، جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔
مذکورہ امریکی خاتون نے اپنے تجربہ کی روشنی میں اسلام کے اصول کی نہایت درست ترجمانی کی ہے۔ اسلام میں عورت کے درجہ کو مرد کے مقابلہ میں گرایا نہیں گیا ہے۔ بلکہ برابری کے اصول پر دونوں کے درمیان تقسیم کار کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اسلام نے زندگی کے معاملات کو دو بڑے حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک بیرونی حصہ، دوسرا اندرونی حصہ۔ اسلام کے مطابق، بیرونی حصہ حیات کا انچارج مرد ہے اور اندرونی حصہ حیات کی انچارج عورت۔
یہ تقسیم کار دونوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس طرح زندگی کے ایک شعبہ میں مرد اپنی پوری طاقت لگانے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت زندگی کے دوسرے شعبہ میں آزاد ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ کو استعمال کرتے ہوئے اس کو بخوبی طور پر منظم کرے۔
یہ تقسیم ایک اعتبار سے آزادانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے اس کی حیثیت دندانہ دار پہیہ(cog wheel) جیسی ہے۔ دندانہ دار پہیہ میں ہر پہیہ کی اپنی الگ شخصیت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں پوری طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک کا عمل دوسرے سے بندھا ہوا ہوتا ہے۔ ان کی درست کارکردگی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہوں۔
عورت کو اپنے نقشہ حیات میں اسی احساس کے ساتھ رہنا ہے۔ اس کو یہ سمجھنا ہے کہ وہ داندانہ دار پہیہ کے دوبرابر کے پرزوں میں سے ایک پرزہ ہے۔ اس کے مل کر چلنے سے پورا پہیہ چلے گا، اور اس کے نہ چلنے سے پورا پہیہ رک جائے گا اور اسی کے ساتھ زندگی کا پورا نظام بھی۔
تقسیم کار کے معاملہ کا تعلق صرف عورت اور مرد سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اصول ہے جس پر فطرت کا پورا نظام قائم ہے۔
آپ ایک بزنس ہاؤس قائم کریں جہاں بہت سے لوگ کام کر رہے ہوں۔ آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو آفس میں بٹھائیں اور کچھ لوگوں کو فیلڈ میں متحرک کریں۔ یہ تقسیم ہر کاروبار کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے۔ کسی کاروبار یا کسی آرگنائزیشن کے کارکن اگر اس تقسیم عمل پر راضی نہ ہوں تو ایسے کاروبار یا آرگنائزیشن کا ناکام ہو جانا یقینی ہے۔
یہی معاملہ کاروبار حیات کا ہے۔ زندگی کے لیے خدا نے یہ طریقہ بنایا ہے کہ عورت اور مرد دونوں مل کر اسے چلائیں۔ پھر ان دونوں کے لیے بنیادی دائرہ کار مقرر کر دیا ہے اور ہر ایک کے اندر مخصوص طور پر وہی صلاحیتیں رکھ دی ہیں جو اس کو اپنے دائرہ کے کام کو بخوبی طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہیں۔
اب عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ ہر جنس اپنے اپنے دائرہ عمل پر راضی رہ کر اپنے حصہ کا کام پوری توجہ کے ساتھ انجام دے۔ نہ مرد عورت بننے کی کوشش کرے اور نہ عورت مرد کی نقل کرے۔ جو عورت اور مرد خدا کے اس بندوبست پر راضی ہوں وہ خدا کی مدد سے دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب۔