← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
ایمان کی طاقت
Urdu · 8 min
شیخ حمید الدین ابو حاکم قریشی(570-737ھ) ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو کیچ اور مکران کے علاقہ پر حکومت کر رہا تھا۔ اپنے والد سلطان بہاء الدین کے انتقال کے بعد وہ تخت سلطنت پر بیٹھے اور 21 سال تک شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔
’’ذکر کرام‘‘ میں ان کے واقعات کے ذیل میں لکھا ہے کہ شیخ حمید الدین کے ساتھ ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور ’’سلطان کے بجائے ان کو شیخ‘‘ بنا دیا۔
other sourceWords of another person or source
شیخ حمید الدین اپنی حکومت کے زمانہ میں دوپہر کو اپنے ایک باغ میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ اس باغ میں ان کا ایک محل تھا۔ اس محل کی نگرانی نونیت نامی ایک مسلم خادمہ کے سپرد تھی۔ اس مسلم خادمہ کے ذمہ یہ کام تھا کہ ہر روز وقت پر وہ بستر بچھا دے تاکہ شیخ حمید الدین آ کر اس پر آرام کر سکیں۔
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز شیخ کے آنے سے پہلے خادمہ نے بستر بچھایا تو اس کو بستر بہت اچھا لگا۔ وہ اس پر کچھ دیر کے لیے لیٹ گئی۔ ابھی وہ بستر سے اٹھی نہیں تھی کہ اس کو نیند آگئی۔ شیخ حمید الدین جب معمول کے مطابق آرام کرنے کے لیے محل پہنچے تو دیکھا کہ خادمہ نونیت بستر پر پڑی سو رہی ہے۔ سلطان کے بستر پر خادمہ کو سویا ہوا دیکھ کر انہیں غصہ آگیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ اس گستاخی پر خادمہ کو سو کوڑوں کی سزا دی جائے۔
حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور خادمہ کو کوڑے مارے جانے لگے۔ مگر یہ عام قسم کی خادمہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ مومنہ اور مسلمہ تھی۔ چنانچہ شیخ حمید الدین کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ خادمہ آہ و واویلا نہیں کر رہی ہے، بلکہ ہر کوڑے پر ہنس پڑتی ہے۔ انہوں نے سزا کو روک کر خادمہ کو بلایا اور اس سے خلاف معمول ہنسنے کی وجہ پوچھی۔ خادمہ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا
’’مجھے خیال آیا کہ جب اس نرم بستر پر ایک بے اختیارانہ نیند کی یہ سزا ہے تو ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو روزانہ اس نرم بستر پر آرام کرتے ہیں۔‘‘
خادمہ کے اس جواب کا سلطان حمید الدین پر اتنا اثر ہوا کہ ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔ وہ سلطان کے بجائے شیخ بن گئے۔ وہ دنیا اور اس کی لذتوں سے بے رغبت ہوگئے۔ یہاں تک کہ درویشی کی زندگی اختیار کرلی۔ سلطنت چھوڑ کر شیخ حمید الدین لاہور آئے۔ یہاں حضرت سید احمد توختہ(جو ان کے نانا بھی ہوتے تھے) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ہاتھ پر طریقہ شطاریہ میں بیعت کی اور ریاضتوں اور مجاہدوں کے بعد ان کی خلافت حاصل کی۔ شیخ حمید الدین نے 167 سال کی عمر پائی۔ آخر عمر میں وہ اُچ اور سکھر کے درمیانی علاقہ میں تبلیغ و ارشاد کا کام کرتے رہے۔ اس علاقہ میں بہت سے لوگ ان کے ہاتھ پر ایمان لائے(تذکرۂ صوفیاء پنجاب از اعجاز الحق قدوسی، صفحہ 240-242)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک عورت اگر صحیح معنوں میں ایمان اور اسلام پر ہو تو وہ خادمہ ہو کر بھی مالک سے زیادہ طاقت ور ہو جاتی ہے۔ اس کا ایک جملہ بادشاہ کو تڑپانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسی خواتین بہت ہیں جنہوں نے اپنے ایک مومنانہ کلمہ سے بڑے بڑے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔
بنو عباس کے آخری زمانہ میں تاتاریوں نے مسلم دنیا کو پامال کر ڈالا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے جس کا مقابلہ دہشت انگیزی اور غارت گری میں تاتاری حملہ سے کیا جا سکے۔ جس طرح کسی پہاڑ سے بہت بڑا تودہ کسی بستی پر آگرے اسی طرح تاتاریوں کے وحشی لشکر اسلامی تہذیب و تمدن کے مرکزوں پر ٹوٹ پڑے اور اپنے پیچھے ویران صحرا اور بھیانک کھنڈر کے سوا کچھ اور نہیں چھوڑا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ معلوم ہے، یہ الم ناک حادثہ دوبارہ اس طرح بدلا کہ وحشی تاتاری اسلام قبول کرکے اسلام کے حامی اور پاسباں بن گئے۔ یہ انقلابی واقعہ جن لوگوں کے ذریعہ انجام پایا ان میں بڑی تعداد عورتوں کی تھی۔ تاتاریوں نے مسلم دنیا کو تاراج کرنے کے بعد مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو لونڈی بنا لیا۔ یہ خواتین جو تاتاری گھروں میں زبردستی داخل کی گئی تھیں، انہوں نے خاموشی کے ساتھ تاتاریوں پر اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت کو اسلام میں داخل کر دیا۔The preaching of IsIam, pp.226-234
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاتاریوں(مغلوں) کا پہلا فرماں روا جس نے اسلام قبول کیا وہ برکہ خان تھا۔ اس نے 1256ء سے لے کر1267ء تک حکومت کی۔ برکہ خان کی ماں ایک مسلمان تھی۔ اس نے بچپن سے اس کی تربیت اسلامی انداز پر کی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ بڑا ہو کر مسلمان ہوگیا۔ اسی طرح غازان خان کا بھائی الجائتو اپنی مسلمان بیوی کی ترغیب سے اسلام لے آیا۔ وغیرہ۔
اسلامی خواتین کی تاریخ اس قسم کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔