Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

حضرت عائشہؓ

Urdu · 7 min

حضرت عائشہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ ہجرت سے آٹھ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں۔66 سال کی عمر میں 58ھ میں انتقال کیا۔ حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد خولہ بنت حکیم نے آپ کی طرف سے حضرت ابوبکر کو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہاکہ اس سے پہلے مطعم بن عدی اپنے بیٹے جُبیر سے عائشہ کے نکاح کا پیغام دے چکے ہیں۔ اس کو میں نے منظور بھی کر لیا ہے۔ اور خدا کی قسم ابو بکر نے کبھی کسی وعدہ کے خلاف نہیں کیا(وَاللهِ ‌مَا ‌أَخْلَفَ ‌وَعْدًا ‌قَطُّ)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابو بکر صدیق اس کے بعدمطعم کے یہاں جا کر اس سے ملے۔ اس سے پوچھا کہ عائشہ سے اپنے بیٹے کے نکاح کی بابت تمہارا کیا خیال ہے۔ مطعم نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس معاملہ میں تم کیا کہتی ہو۔ بیوی نے حضرت ابوبکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم سے رشتہ کرنے میں مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں میرا لڑکا صابی(بے دین) ہو جائے اور اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر تمہارے مذہب(اسلام) میں داخل ہو جائے۔ ابوبکر دوبارہ مطعم بن عدی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ اے مطعم ، تم کیا کہتے ہو۔مطعم نے جواب دیا کہ میری بیوی نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سن لیا۔

اس طرح مطعم اور اس کی بیوی دونوں نے رشتہ سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر نے سمجھ لیا کہ وعدہ کی ذمہ داری ان کے اوپر نہیں ہے۔ اب حضرت ابوبکر نے خولہ سے کہہ دیا کہ تمہارا پیغام مجھے منظور ہے(دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد2، صفحہ411-412)۔ اس کے بعد مقررہ وقت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے مکان پر گئے، وہاں عائشہ سے آپ کا نکاح ہوا۔ مہر چار سو درہم مقرر ہوا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد8، صفحہ63)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ معاشرتی معاملات میں اگر کبھی کوئی بات ٹوٹ جائے تو اس سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ے کہ اس کے بعد کوئی نیا خیر نکلنے والا ہو۔ چنانچہ سردار مکہ کے لڑکے سے عائشہ کا رشتہ ٹوٹا، مگر اس کے بعد انہیں پیغمبر اعظم کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا۔

حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت چھوٹی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد وہ تقریباً50 سال تک زندہ رہی۔ اس نامساوی نکاح کی مصلحت یہ تھی کہ عائشہؓ بے حد ذہین تھیں۔ ان کے اندر اخذ(grasp) کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ اس نکاح نے ان کی خداداد صلاحیت کو سارے عالم کے لیے مفید بنا دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً دس سال رہیں۔ اس مدت میں انہوں نے رات دن آپ کو دیکھا اور آپ کی تمام باتیں سنیں۔ اس طرح علم دین اور حکمت اسلام کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے دماغ میں جمع ہوگیا۔ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد انہوں نے اس علم نبوی کو امت تک پہنچایا۔ وہ تقریباً نصف صدی تک زندہ ٹیپ ریکارڈر بنی رہیں۔

حافظ ابن حجران کی بابت لکھتے ہیں کہ عائشہ کی پیدائش ہجرت سے تقریباً آٹھ سال پہلے ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ تقریباً18 سال کی تھیں۔ انہوں نے آپ سے بہت سی باتیں یاد رکھیں اور آپ کے بعد تقریباً50 سال تک زندہ رہیں۔ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ باتیں اخذ کیں۔ اور احکام و آداب میں سے بہت سی چیزیں ان سے نقل کیں۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ احکام شریعت کا چوتھائی حصہ ان سے نقل کیاگیا ہے۔ ان کی وفات امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں58ھ میں ہوئی (فتح الباری134/7)

other sourceWords of another person or source

حضرت عائشہؓ سے اقوال رسولؐ بہت زیادہ منقول نہیں ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو نہایت غور سے سنا۔ آپ کے ہر عمل کو نہایت توجہ سے دیکھا اور پھر اپنی خداداد ذہانت سے اس کی حکمتیں معلوم کیں۔ ان کا کلام اسلامی حکمت اور معرفت کا خزانہ ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے: ‌مَا ‌خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‌بَيْنَ ‌أَمْرَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (مسند احمد، حدیث نمبر 24549)۔ ان کے اس ایک قول میں معانی کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عائشہؓ نے اپنی ذہانت کو خالص اسلام کے لیے استعمال کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے زہد کو اپنا شعار بنایا۔ بعد کے زمانہ میں آپ کے پاس کثرت سے مال آتا تھا۔ مگر آپ سارا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں اور خود نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر نے ان کے پاس ایک لاکھ 80 ہزار درہم بھیجے۔ آپ نے سارا درہم شام تک خیرات کر دیا۔ جبکہ اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھر میں روٹی اور زیتون کے تیل کے سوا کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ خادمہ نے کہا کہ آپ کچھ درہم بچا کر گوشت منگا لیتیں تو اچھا ہوتا۔ فرمایا کہ تم نے پہلے یاد دلایا ہوتا تو منگا لیتی۔(طبقات ابن سعد، جلد10، صفحہ 66)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ زہد ہی حکمت کا دروازہ ہے۔ جو یہ چاہتا ہو کہ خدائی معرفت اور اسلامی حکمت کا چشمہ ان کے ذہن میں جاری ہو اس کو اس دنیا میں مادی چیزوں سے بے رغبت ہو کر رہنا ہوگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content