Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

تین مرحلے

Urdu · 10 min

ایک عورت کو اپنی زندگی میں تین بڑے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک لڑکی کی صورت میں اپنے صبح و شام بسر کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے یہاں بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس کی حیثیت ماں کی بن جاتی ہے۔

یہ تینوں مرحلے تقریباً ہر عورت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے تقاضے الگ الگ ہیں اور ہر دور میں عورت کو اس کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے تاکہ اس کی ترقی جاری رہے اور وہ آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے۔ ان تینوں مرحلوں میں عورت کو جو کام کرنا ہے اس کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے___تعلیم، خانہ آبادی، تربیت نسل۔

پہلے مرحلہ میں جب کہ عورت کی حیثیت ایک لڑکی کی ہوتی ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری تعلیم کا حصول ہے۔ زندگی کا یہی وہ تعمیری دور ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ علم کا حصول ہر مومن مرد اور ہرمومن عورت پر فرض ہے(طلب العلم فریضۃ علی کل مومن و مومنۃ)سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تعلیم زندگی کی تعمیر ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ انسان حقیقی معنوں میں انسان بنتا ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ ذہن اس ارتقائی حالت تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور وسروں کو سمجھے۔ وہ دنیا اور آخرت سے سچی واقفیت حاصل کرے۔ وہ مراحل حیات میں کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ داخل ہو اور صحیح طور پر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔

ایک عورت جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے تو اس کی حیثیت ایک خام مادہ کی ہوتی ہے۔ اس کے اندر تمام فطری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں مگر یہ صلاحیتیں خام حالت میں ہوتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو جلا دینے کا کام تعلیم کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ تعلیم گویا لوہے کو اسٹیل بناتی ہے، وہ فطری امکانات کو واقعہ کے روپ میں تشکیل دیتی ہے۔

تعلیم عورت کی شخصیت کو مکمل کرتی ہے۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، عورت جتنی زیادہ صاحب علم ہوگی اتنا ہی زیادہ وہ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے گی۔

تعلیم کے دو پہلو ہیں۔ ایک کو سیکولر تعلیم اور دوسرے کو دینی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔ عورت کے لیے دونوں ہی ضروری ہیں، اگرچہ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے جدا ہے۔ سیکولر تعلیم اگر ضرورت حیات کے درجہ میں مطلوب ہے تو دینی تعلیم مقصد حیات کے درجہ میں درکار ہے۔

سیکولر تعلیم عورت کو زندگی کا شعور عطا کرتی ہے۔ وہ ا س کو سوچنے اور رائے قائم کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ انسانی نفسیات کیا ہے۔ زمانہ کے تقاضے کیا ہیں۔ قوم اور ملک کی تاریخ کیا ہے۔ وہ انسانی حالات کیا ہیں جن کے درمیان اس کو زندگی کا امتحان دینا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کو سیکولر تعلیم یا دنیوی تعلیم کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔ اس تعلیم کو حاصل کرنا عورت کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر وہ اپنے فرائض حیات کو کامیابی کے ساتھ ادا نہیں کر سکتی۔

دینی تعلیم کی حیثیت مقصدی ہے۔ ہر عورت پر لازم ہے کہ وہ ضروری حد تک قرآن اور حدیث کا علم حاصل کرے۔ وہ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں کو جانے۔ وہ اسلام کی تاریخ سے بقدر ضرورت واقف ہو۔ وہ جانے کہ انسان کے لیے اسلام کا عطیہ کیا ہے۔

عورت اگر عربی زبان سیکھ سکے تو بہت اچھی بات ہے۔ ورنہ اپنی مادری زبان میں اس کو قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے اور بار بار اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن کی حیثیت دین میں اساس کی ہے۔ قرآن کی تعلیمات سے واقفیت کے بغیر دین کا فہم و ادراک ممکن نہیں۔

اس کے بعد عورت کو احادیث کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ عربی زبان جانے اور عربی میں پڑھ سکے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ آج ہر زبان میں حدیث اور سیرت پر کتابیں موجود ہیں۔ اس کو چاہیے کہ اپنی زبان میں اس موضوع پر کتابیں حاصل کرے اور اہتمام کے ساتھ ان کا مطالعہ کرے۔

اس کے بعد صحابہ کے حالات اور دوسری دینی شخصیتوں کے حالات کا معاملہ ہے۔ ان پر بھی ہر زبان میں کثرت سے کتابیں موجود ہیں۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ ان کتابوں کو اپنے حالات کے اعتبار سے پڑھے اور اس میں پوری آگہی حاصل کرے۔

عورت کی زندگی کا دوسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ کسی مرد کی بیوی بن کر نئے گھر میں منتقل ہوتی ہے۔ اس دوسرے دور حیات میں اس کی جو ذمہ داریاں ہیں اس کو ایک لفظ میں خانہ آبادی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اب عورت محض ایک فرد نہیں رہی، وہ سماج کا ایک ایسا جزء بن جاتی ہے جس کے بغیر نہ وہ خود مکمل ہے اور نہ سماج۔

خانہ آبادی کے اس دور میں عورت کو جس طرح رہنا ہے، اس کو ایک لفظ میں حسن معاشرت کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزر کرو (وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ) اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو(4:19)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بات جو مردوں سے کہی گئی وہی عورتوں سے متعلق بھی ہے۔ عورت کو بھی اسی ذہن کے ساتھ اپنا گھر بسانا ہے کہ خانہ آبادی میں حاصل اہمیت ذاتی پسند ناپسند کی نہیں ہے بلکہ مجموعی انسانی فلاح کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ذاتی اعتبار سے ایک چیز آپ کو پسند نہ آتی ہو مگر مجموعی انسانیت کے اعتبار سے اس میں خیر ہو۔ اس لیے گھر کے اندر ناموافق باتوں کو نبھاہتے ہوئے ہنسی خوشی زندگی گزارنا ہے۔

تیسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ عورت ماں بن جاتی ہے۔ اب اس کی ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی اگلی نسل کی تیاری میں اپنا حصہ ادا کرنا۔ ہر گھر یا خاندان گویا کہ وسیع تر انسانیت کی ایک اکائی ہے۔ اکائیوں کی درستگی سے مجموعہ درست ہوتا ہے۔ اب عورت کو یہ کرنا ہے کہ اپنی اکائی کو درست کرنے میں لگ جائے تاکہ وسیع تر انسانی معاشرہ درست معاشرہ بن سکے۔

عورت کو اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دینا ہے۔ اس کو اعلیٰ انسانی اخلاق سکھانا ہے۔ اس کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے گھر میں اور اپنے سماج میں ایک شریف اور دیانت دار انسان کی حیثیت سے رہ سکے۔ عورت کو اپنی اولاد کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دنیا میں انسانوں کے حقوق ادا کرنے والے بنیں، اور آخرت میں خدا کی رضا کے مستحق قرار پائیں۔

عربی کا مقولہ ہے:التعلیم فی الصغر کا لنقش فی الحجر۔ یعنی کم عمری کی تعلیم پتھر میں نقش کی مانند ہے(فتح الباری702/8) بچہ میں یہ حجری نقش بنانا ماں ہی کا کام ہے۔ اگر عورت اس امکان کو پوری طرح استعمال کرے تو اس کی آغوش میں پلا ہوا بچہ ایک ایسا انسان بن کر ابھرے گا جو انسانی دنیا کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہو نہ کہ کوئی بوجھ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وہی عوت کامل عورت ہے جو ان تینوں ذمہ داریوں میں پوری اترے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content