← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
بہترین خزانہ
Urdu · 13 min
قرآن میں ہے کہ: اے ایمان والو، اہل کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشی خبری دے دو۔ اس دن اس مال پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی___ یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کیا تھا۔ پس اب چکھو جو تم جمع کرتے رہے(9:34-35)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ آیت قرآن میں اتری تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بُرا ہو سونے کا اور بُرا ہو چاندی کا (مسند احمد، حدیث نمبر 23101)۔ یہ بات صحابہ پر بہت شاق گزری۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ پھر اور کون سا مال ہم اپنے پاس رکھیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس کی بات دریافت کروں۔ لوگوں نے کہا کہ ضرور۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد حضرت عمر فاروق رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب پر یہ بات بہت شاق ہو رہی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ پھر ہم کون سا مال اکٹھا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نَعَمْ! فَيَتَّخِذَ أَحَدُكُمْ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَىٰ إِيمَانِهِ( تفسير الطبري،جلد14،صفحہ 223)۔ہاں تم میں سے جس شخص کو اپنانا ہے وہ خدا کو یاد کرنے والی زبان کو اپنائے، وہ شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایک ایسی بیوی کو اپنائے جو اس کے دین میں، اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کی مدد کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ بہترین خزانہ کیا ہے جس کو آدمی اپنے لیے جمع کرے۔ بہترین خزانہ وہ صالح عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس سے کوئی بات کہے تو وہ اس کی تعمیل کرے۔ اور جب وہ گھر میں موجود ہو تو نفس اور مال میں اس کی حفاظت کرے:
hadithQuotes a hadith
أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ(سنن أبي داود،حدیث نمبر 1664)
hadithQuotes a hadith
اس حدیث میں عورت کو کسی مرد کے لیے سب سے اچھا خزانہ کہا گیا ہے۔ اور یہ بات صد فیصد درست ہے۔ سونا اور چاندی یا مال صرف مادی ضرورت پورا کرتے ہیں۔ مگر ایک صالح خاتون گھر کو اور خاندان کو خوشی اور سکون اور محبت کا گہوارہ بناتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک صالح خاتون اپنے میٹھے بول سے گھر میں مٹھاس بکھیرتی ہے۔ وہ اپنے اچھے اخلاق سے پورے ماحول کو انسانیت کا ماحول بناتی ہے۔ اس کا شریفانہ برتاؤ ہر ایک کوشرافت کی تربیت دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی پیدائشی نرمی اس کو نرم گرفتار اور نرم کردار بناتی ہے، اور پھر گھر کی پوری فضا اسی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔
عورت اپنی فطری صلاحیت اور اپنے فطری حالات کے اعتبار سے گھر کی انچارج ہے۔ گھر کے نظام میں اس کومرکزی شخصیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے گھر کے بننے یا بگڑنے میں اس کا رول بے حد اہم ہے۔ ایک عورت کے بننے سے گھر بنتا ہے اور ایک عورت کے بگڑنے سے گھر بگڑ جاتا ہے۔ اسی لیے عورت کو بہترین خزانہ کہا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عورت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ گھر کو مسرتوں کا باغ بنائے۔ اس کے شوہر کو اور گھر کے دوسرے افراد کو اس سے خوشی کا تحفہ مل رہا ہو۔ ہر ایک کے لیے اس کا وجود نفع بخشی اور فیض رسانی کا ذریعہ بن گیا ہو۔ شوہر کو اور گھر کے افراد کو یہ یقین ہو کہ خواہ وہ موجود ہوں یا غیر موجود ہوں۔ ہمیشہ گھر کے اندر ان کا ذکر خیر خواہی کے ساتھ کیا جائے گا۔ ہمیشہ ان کو وہ سلوک ملے گا جو ان کی دنیا و آخرت کے لیے سب سے بہتر ہو۔
عورت گھر کا خزانہ ہے، بلکہ سب سے اچھا خزانہ، عورت گھر کے باغ کا پھول ہے، بلکہ سب سے اچھا پھول۔ عورت گھر کی دنیا کی روشنی ہے، بلکہ سب سے اچھی روشنی۔ مگر کوئی عورت اپنا یہ فطری کردار اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ وہ باشعور ہو، جب کہ وہ اپنے احساسات کے ساتھ دوسروں کے احساسات کو بھی جانے۔ جب کہ اس کے اندر یہ عزم ہو کہ وہ بہرحال اس انسانی کردار کو ادا کرے گی جو خالق نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، خواہ اس کے لیے اسے صبر و برداشت کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خیر کثیر
قرآن کی سورۃ نمبر4 میں ایک مقام پر مردوں کو اس پر تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ عورت کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر ظلم و زیادتی کریں۔ اس سلسلہ میں ضروری احکام دینے کے بعد ایک اصولی اور جامع تعلیم دی گئی ہے جو یہ ہے(وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً) 4:19۔اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت کا ابتدائی خطاب مردوں سے ہے۔ مگر وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ اس میں دونوں ہی کے لیے یکساں رہنمائی موجود ہے۔ نکاح کے بعد خوش اسلوبی کے ساتھ نباہ کرنا جس طرح مردوں کے لیے ضروری ہے اسی طرح وہ عورتوں کے لیے بھی ضروری ہے۔
مرد اگر محسوس کرے کہ اس کی ہونے والی بیوی میں کوئی جسمانی یا مزاجی کمزوری ہے تو اس کی بنا پر اسے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی اپنی دوسری خصوصیات کو بروئے کار لائے اور اس طرح گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھلا کر باہمی تعلق کو نبھائے۔
یہی معاملہ عورت کا بھی ہے۔ عورت کے ساتھ بھی یہ صورت پیش آ سکتی ہے کہ نکاح کے بعد اس کو احساس ہو کہ اس کے شوہر میں فلاں کمزوری ہے۔ وہ سمجھے کہ میری قسمت خراب ہوگئی۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اس کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی عورت ایسا کامل مرد پا لے جس میں اس کے نقطہ نظر سے کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔ اس لیے عورت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نباہ کے اصول کو اختیار کرے۔ جب وہ ایساکرے گی تو وہ پائے گی کہ اس کے شوہر میں اگر ایک اعتبار سے کمی تھی تو دوسرے اعتبار سے اس کے اندرایسی خوبیاں تھیں جن کے ہوتے ہوئے کمی کی کوئی اہمیت نہیں۔
ایسا کرنا کسی عورت یا کسی مرد سے موافقت کرنا نہیں ہے بلکہ وہ خود فطرت کے نظام سے موافقت کرنا ہے۔ اور جب معاملہ کس عورت یا کسی مرد کا نہ ہو بلکہ فطرت کا ہو تو آدمی کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن ہی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی و استحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انکی خوبیوں کو ظہور میں آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں اس صبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنتوں میں داخلہ کا پروانہ حاصل کریں گے۔
مذکورہ اصول اس سورہ میں اگرچہ شوہر اور بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی موجود ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم دیتے ہوئے اس کے درمیان ایسی کلی ہدایت دے دی جاتی ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہو۔
دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا بالکل ضروری ہے۔ کوئی عورت یا مرد دوسروں سے الگ تھلگ زندگی نہیں گزار سکتے۔ اب چونکہ لوگوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ ہر ایک کی طبیعت الگ الگ ہے اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے تو ان کے درمیان لازماً اختلاف اور شکایت والی باتیں پیدا ہوں گی، ایسی حالت میں زندگی گزارنے کی قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے۔ اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک کمی یا خرابی دوسرے کے سامنے آتی ہے۔ وہ فوراً اس سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گاکہ ہر ناموافق صورت حال میں ایک یا ایک سے زیادہ موافق پہلو موجود ہے۔
مثلاً کسی عورت یا مرد میں اگر ظاہری کشش کم ہو تو اس کے اندر عملی صلاحیت زیادہ ہوگی۔ اگر اس کے مزاج میں کوئی پہلو ناپسندیدہ ہو تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر ذہنی اعتبار سے اعلیٰ صلاحیت موجود ہوں۔ اگر کوئی شخص ابتدائی مرحلہ میں کم پیسہ والا ہے تو اس کے اندر یہ استعداد ہو سکتی ہے کہ وہ محنت کرکے آئندہ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر لے۔
یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔