← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
اخلاق نسواں
Urdu · 5 min
اخلاق اس اجتماعی سلوک کا نام ہے جو دوسروں سے معاملات اور تعلقات کے دوران کوئی مرد یا عورت انجام دیتا ہے۔ اسلام کا حکم ہے کہ ایسے ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاقی سلوک کیا جائے۔ یہ حکم عورت سے بھی اتنا ہی متعلق ہے جتنا کہ وہ مرد سے متعلق ہے۔
آپ کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ جب آپ اپنی زبان کھولیں تو جھوٹ کے لیے نہ کھولیں بلکہ سچ کے لیے کھولیں۔ ہمیشہ انصاف کی بات بولیں۔ کسی کے خلاف الزام تراشی نہ کریں۔ بلکہ وہ بات کہیں جس میں دوسروں کے لیے خیر خواہی پائی جاتی ہو۔ آپ کا بولنا سچائی کے اظہار کے لیے ہو، نہ کہ سچائی کو چھپانے کے لیے۔ جب کوئی حق آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو فوراً اس کا اعتراف کر لیں، آپ کی زبان سے کبھی پست بات نہ نکلے بلکہ جب بھی نکلے تو اعلیٰ انسانیت کی بات نکلے۔ آپ کا کلام تواضع، شرافت، شکر گزاری، خیرپسندی اور اعتراف حق کے احساسات سے بھرا ہوا ہو۔
قرآن میں ہے کہ جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اس کو جلائیں گے اچھا جلانا(مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَياةً طَيِّبَةً)16:97۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوا کہ صالح اعمال یا اچھے اخلاق کا تعلق صرف دوسروں سے نہیں ہے، جو لوگ ایسا کریں خود ان کی ذات کو اس کا یقینی فائدہ سب سے پہلے پہنچتا ہے۔
جب آپ سچ بولیں تو اس سے آپ کو ایک خاص قسم کا روحانی سکون ملتا ہے۔ آپ کے اندر ایک بے تضاد شخصیت پرورش پانے لگتی ہے۔ جب خاندان کے ایک فرد سے آپ کو تکلیف پہنچے اور آپ اللہ کی خاطر اس کو بھلا دیں اور اس کے حق میں نیک دعا کریں تو آپ کے اندر انسانی خیر خواہی کاایک چشمہ ابل پڑتا ہے جس کی ٹھنڈک آپ کے دل و دماغ تک پہنچتی ہے۔ اگر آپ کے لڑکے اور کسی دوسرے لڑکے کے درمیان تکرار ہوتی ہے، اس وقت آپ کا رویہ بیٹے کی طرف داری کا نہیں ہوتا بلکہ حق کی طرف داری کا ہوتا ہے تو ایسی روش سے آپ کو ایک ایسا ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے جو بھاری قیمت دے کر بھی خریدا نہیں جا سکتا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اوپر کی آیت میں جس چیز کو حیات طیبہ(اچھی زندگی) کہاگیا ہے۔ وہی دنیا میں ضمیر کے اطمینان اور دل کے سکون کا ذریعہ ہے۔ اور یہی حیات طیبہ کسی کو اس قابل بناتی ہے کہ آخرت میں اس کے لیے جنت کے ابدی دروازے کھولے جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت کس کو ملے گی، اس عورت یا مرد کو جسے یہاں حیات طیبہ ملی۔ جس کا دماغ نور الٰہی سے روشن ہوا۔ جس کے دل میں ربانی کیفیات کے چشمے پھوٹے۔ جس کا سینہ یاد خدا وندی کے طوفان سے آشنا ہوا۔ جس کی آنکھوں نے خدائی منظر کے سوا ہر دوسرے منظر کو دیکھنے سے انکار کر دیا۔ جس کے ہاتھ اٹھے تو خداکے لئے اٹھے۔ جس کے قدم متحرک ہوئے تو خدا کے لیے متحرک ہوئے۔ جس کی زبان گویا ہوئی تو لوگوں کو اس سے خدائی محبت اور انسانی خیر خواہی کی باتیں سننے کو ملیں۔
حدیث میں ہے کہ تم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو سلوک اپنے لیے پسند کرتے ہو(صحیح البخاری، حدیث نمبر 13)۔ یہ اصول مومن عورت کے لیے بھی ہے اور مومن مرد کے لیے بھی۔ یہ نہایت سادہ کسوٹی ہے جس سے کوئی عورت یا مرد ہر لمحہ جان سکتا ہے کہ اس کو دوسروں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہر ایک کو معلوم ہے کہ بدگوئی اسے پسند نہیں، اس لیے وہ دوسروں کے خلاف بھی بدگوئی نہ کرے اور ہمیشہ میٹھے کلام سے دوسروں کا استقبال کرے۔ اسی طرح ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے تو اس کو پسند آئے گا، اب اس کو چاہیے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی برتے، کسی کے ساتھ بھی بدخواہی کا معاملہ نہ کرے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ کوئی اس کو نفع پہنچائے تو اس کو خوشی ہوتی ہے۔ اب ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی ذات سے کبھی کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ کوئی شخص اس کی راہ میں رکاوٹ بنے تو ایسی روش اس کو ناپسند ہوتی ہے، اب اس کو سخت احتیاط کرنا چاہیے کہ اس کی کوئی روش کسی کی راہ روکنے کے ہم معنی بن جائے۔
برے اخلاق کی جڑ عام طور پر دو چیزیں ہوتی ہیں___حرص اور غصہ۔ حرص کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے واجبی حق سے زیادہ کا خواہش مند بن جائے۔ جب بھی کوئی مرد یا عورت اس طرح حرص کا شکار ہو جائیں تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتے ہیں۔ غصہ یہ ہے کہ آدمی اپنے مزاج کے خلاف باتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ یہ بہت برا مزاج ہے۔ اس کی بھاری قیمت دینی پڑتی ہے، اور وہ خدا کی رحمت سے محرومی ہے۔