ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی صالح بیوی سے بہتر نہیں:لَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1855)۔ عورت کی اس خصوصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ صالح عورت اپنی مخصوص حیثیت کی بنا پر مرد کی بہترین ساتھی اور بہترین مشیر ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کے دو واقعے نقل کیے جاتے ہیں۔
1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی مکہ کے قریب غار حرا میں اتری۔ یہ آپ کے لیے ایک غیر متوقع تجربہ تھا۔ آپ غار سے نکل کر اپنے گھر میں واپس آئے تو روایات کے مطابق آپ کانپ رہے تھے۔ آپ نے فرمایاکہ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غار حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھ کو اپنی جان کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے اس وقت یہ الفاظ کہے: كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ (صحيح البخاري،حدیث نمبر3)۔ ہر گز نہیں، خداکی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا، آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، گمنام لوگوں کو کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور قدرتی آفتوں کے شکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دینے کے لیے جو کلمات کہے وہ بلاشبہ اپنے موقع کے لحاظ سے بہترین کلمات تھے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ حضرت خدیجہؓ کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ اس نازک موقع پر ایسے پراعتماد الفاظ کہہ سکیں۔ اس کی خاص وجہ آپ کا مذکورہ طوفان خیز تجربہ سے الگ رہنا ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میںبعض اوقات وہ شخص غیر متاثر رائے قائم نہیں کر پاتا جو خود مسئلہ کے اندر گھرا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا مشیر ہو جو خود مسئلہ سے متعلق نہ ہو تاکہ اس کی بابت وہ غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر سکے۔ حضرت خدیجہؓ کا مذکورہ قول اسی کی ایک مثال ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے، اس تقسیم سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے۔ عورت اپنے شعبہ میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبہ میں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچے۔ اور اپنے بے لاگ مشورہ سے اس کی مدد کر سکے۔ اس تقسیم کار کے نتیجہ میں عورت اور مرد دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن سکیں۔
2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاملہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میںتھیں۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو، یہیں ذبح کر دو اور سرمنڈالو تو ایک شخص بھی اس کے لیے نہ اٹھا۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہؓ موجود تھیں۔ انہوں نے آپ کو غم گین دیکھ کر پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔
ام سلمہؓ نے کہا۔ اے اللہ کے رسولؐ۔ اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنا قربانی کا جانور ذبح کریں اور سرمنڈالیں۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کر سر منڈایا۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی اپنی قربانیاں ذبح کر دیں۔ کیونکہ انہوں نے محسوس کر لیا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے(مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔
حضرت خدیجہؓ کی طرح ام سلمہؓ کو اس نازک مواقع پر جو قیمتی بات سوجھی وہ اس لیے سوجھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں۔ اور اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں۔ بصورت دیگر ان کے لیے ایسا کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔