← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
عورت، مرد
Urdu · 18 min
اسلام کے مطابق، عورت اور مرد یکساں درجہ میں عزت اور تکریم کے مستحق ہیں۔ قرآن(3:195)میں فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو(You are members, one of another)حدیث میں ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرد کی طہارت کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔ آپ نے مسئلہ بیان کیا تو ایک عورت نے پوچھافلمرأۃ تری ذلک اَعَلَیہاغسل۔ یعنی عورت کے ساتھ بھی ایسا ہی پیش آئے تو کیا اس پر غسل ہے۔ آپ نے جواب دیا:نَعَمْ. إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ (سنن ابی داؤد،حدیث نمبر 236)۔ یعنی، عورتیں مردوں کا نصفِ ثانی ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شقیق یا شقیقہ کے معنی ہیں دو برابر کے حصوں میں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ اسی لیے بھائی کو شقیق اور بہن کو شقیقہ کہتے ہیں۔ اس حدیث کا صحیح ترجمہ یہی ہے کہ عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ عورت مرد کی شریک حیات ہے، اور اسی طر ح مرد عورت کاشریک حیات۔ دونوں یکساں طور پر ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔
کسی ایک فرد کے اندر تمام مطلوب صفات نہیں ہوسکتیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صفات انسانی کو دو ہستیوں میں بانٹ دیا ہے۔ عورت کے اندر نرمی والی صفات رکھ دیں تاکہ وہ مرد کے لیے سکون کاباعث ہو(الروم،30:21) اور دوسری طرف مرد کے اندر قوامیت والی صفات رکھ دیں تاکہ عورت اس سے اعتماد حاصل کر سکے(النساء،4:34)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صفات کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر حالات میں دونوں کا میدان کار الگ الگ ہو جاتا ہے۔ اس علیحدگی کا مزید فائدہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن جاتے ہیں۔ اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے ان میں کا ایک جن باتوں کے درمیان گھرا ہوا ہوتا ہے، دوسرا اس سے غیر متعلق رہ کر آزادانہ طور پر سوچنے کے قابل ہو جاتاہے۔ اس طرح دونوں کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جب ان میں کا ایک متاثر ذہن کے تحت سوچے تو ان میں کا دوسرا غیر متاثرہ ذہن کے تحت اس کی رہنمائی کر سکے۔
خاتون جنت
قرآن میں وہ تمام بنیادی صفات بتائی گئی ہیں جو جنتی خاتون میں ہونا ضروری ہیں۔ یہ صفتیں کسی عورت کو مغفرت اور اجر عظیم کا مستحق بناتی ہیں۔ وہ اس کے لیے آخرت کے عذاب سے نجات کو یقینی بنانے والی ہیں۔ سورہ الاحزاب35، اور التحریم5 کے مطابق وہ صفات حسب ذیل ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایمان، اسلام، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، صوم، حفظ فروج، ذکر اللہ، توبہ، عبادت، سیاحت۔
1۔ ایمان سے مراد معرفت رب ہے۔ یعنی اپنے خالق و مالک کو اس طرح شعوری طور پر دریافت کرنا کہ وہ آپ کی سوچ پر چھا جائے۔ وہ آپ کے دل کے اندر سما جائے۔ آپ کی پوری شخصیت خدا کے نور سے نہا اٹھے۔
2۔ اسلام کے معنی اطاعت کے ہیں۔ اس سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے۔ یعنی آپ کا نفس اللہ کی اطاعت پر پوری طرح قائم ہو جائے۔ آپ اللہ کی پیروی میںاپنی زندگی گزارنے لگیں۔ آپ کی مرضی کا ہر قولی یا عملی اظہار عین اس کے مطابق ہو جس کا اللہ نے حکم فرمایا ہے۔
3۔ قنوت کا مطلب مخلصانہ فرماں برداری ہے۔ اس سے مراد یہ کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا و رسولؐ نے بتایا ہے۔ تعمیل حکم میں جب قلب کا جھکاؤ اور خضوع شامل ہو جائے تو اسی کو قنوت کہا جاتا ہے۔
4۔ صدق کے معنی سچائی کے ہیں۔ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے، یعنی وہی کہنا جو آپ کو کرنا ہے اور وہی کرنا جو آپ نے اپنی زبان سے کہا ہے۔ لوگوں کے درمیان آپ ایک صاحب کردار خاتون کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔
5۔ صبر ایک بہادرانہ صفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے احکام پر چلنے کے لیے اگر تکلیف اٹھانا پڑے تب بھی اس سے نہ ہٹنا۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر جمے رہنا۔ مخالفانہ محرکات کے باوجود خدائی راستہ کو نہ چھوڑنا۔
6۔ خشوع سے مراد تواضع اور خاکساری ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے کسی کے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسی کو خشوع کہا جاتا ہے۔ یہ احساس مومن اور مومنہ کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ خدا کے خوف سے ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
7۔ صدقہ کا مطلب خیرات ہے۔ یعنی آپ اپنے مال میں سے دوسرے ضرورت مندوں کا حق نکالیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس آپ کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے اسی طرح دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا نہ رہیں۔
8۔ صوم کا مطلب اللہ کے لیے روزہ رکھنا ہے۔ روزہ شکر کی تربیت ہے۔ روزہ رکھنا گویا اپنے آپ کواس حالت کی طرف لے جانا ہے جبکہ آپ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کریں۔ اور پھر آپکے اندر اس رزق کے اوپر خدا کے شکر کا جذبہ بیدار ہو جو اس نے اپنے خزانہ رحمت سے آپ کو عطا کیا ہے۔
9۔ حفظ فروج کا لفظی مطلب شرمگاہوں کی حفاظت ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی میں عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی والے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے اس کا پورا لحاظ رکھنا۔
10۔ ذکر اللہ کا مطلب اللہ کی یاد ہے۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرنا خدا کی معرفت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا کی یاد آتی ہے۔ اس کی روح خدا کے تصور سے اس طرح سرشار ہو جاتی ہے کہ بار بار اس کو خدا کی یاد آتی رہے۔
11۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں پلٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد پھر صحیح روش کی طرف لوٹ آنا۔ یہ کسی مومنہ کی خاص صفت ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہیے کہ نفس کے غلبہ سے جب وقتی طور پر کسی سے غلطی ہو جائے تو اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔
12۔ عبادت سے مراد پرستش ہے۔ یعنی وہ خاشعانہ عمل جو خدا کی عظمت اور برتری کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ جنتی خاتون کی پہچان یہ ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی پرستار بن گئی ہو۔
13۔ سیاحت سے مراد روزہ جیسے ریاضتی اعمال ہیں۔ اس کی روح زہد ہے۔ کسی مومنہ پر جب آخرت کی فکر اتنی زیادہ غالب آ جائے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو جائے اور دنیا کی چیزوں میں اس کا شوق باقی نہ رہے تو اس وقت اس کی جو زاہدانہ زندگی بنتی ہے اسی کو یہاں سیاحت کہا گیا ہے۔
فطرت کا نظام
قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو جوڑے جوڑے کی صورت میں بنایا ہے(وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ) 51:49۔
Qur'anQuotes the Qur'an
اسی اصول فطرت کے مطابق انسان کو بھی دو حصوں کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے، اس کا ایک حصہ مرد ہے اور اس کا دوسرا حصہ عورت۔ یہ خود خالق فطرت کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ ہر مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اس منصوبہ کو تسلیم کرے۔ اس کو رد کرکے زندگی کا کوئی اور نقشہ بنانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس فطری منصوبہ کو ماننے ہی کا نام کامیابی ہے اور اس کو نہ ماننے کا نام ناکامی۔
زوجین کی اس تقسیم کا تقاضا ہے کہ اس کا ہر فریق اپنی حیثیت کو اور اپنے کارمنصبی کو جانے۔ مرد کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حقوق اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اسی طرح عورت کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حدود کار کیا ہیں۔ زندگی کے نظام میں خالق فطرت نے اس کو کیا درجہ عطا فرمایا ہے۔
ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ مرد باہر کا منتظم کار ہے اور عورت گھر کی سردار ہے۔ اصولی تقسیم کے مطابق، مرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ باہر کے معاملات کو سنبھالے، اور عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھر کے امور کو سنوارے اور ان کو درست کرے۔
تاہم اس تقسیم کار کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی نزاکتوں کو سمجھیں، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کامل تعاون کریں۔
مثلاً مرد جو ماہانہ رقم کماتا ہے، عورت اگر گھر کے اخراجات کا بجٹ اس سے زیادہ بنائے تو گھر کے نظام کا خوش اسلوبی کے ساتھ چلنا ناممکن ہو جائے گا۔ اسی طرح مرد اپنے جن رشتہ داروں کو عزیز رکھتا ہے، عورت ان کے ساتھ رقابت قائم کر لے۔ مرد جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہتا ہے، عورت ان کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ مرد سماج کے اندر جن تعلقات کو نبھانا چاہتا ہے، عورت ان کو توڑنے کے درپے ہو جائے۔ مرد وسیع تر مفاد کی خاطر جن لوگوں کو دوست رکھنا چاہتا ہے، عورت ان سے قطع تعلق کی وکیل بن جائے۔
اس قسم کی تمام باتیں فطرت کے نظام میں خلل ڈالنے کے ہم معنی ہیں۔ جب بھی کوئی عورت ایسا کرے گی تو وہ صرف ایک مرد سے عدم موافقت کرنے والی نہیں ہوگی بلکہ وہ خود نظام فطرت سے عدم موافقت کی مجرم قرار پائے گی۔
عورت پر لازم ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات کو رہنما نہ بنائے بلکہ خالق فطرت کے منصوبہ پر نظر رکھے۔ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ وہ انسانیت کے وجود کا نصف ہے نہ کہ کل۔ اس کو اپنے جذبات کے ساتھ نظام فطرت کو بھی دیکھنا ہے، اور جہاں اس کے ذاتی احساسات اور فطرت میں ٹکراؤ ہو وہاں اپنے احساسات کو دبانا ہے اور فطرت کے نظام کو خوش دلی کے ساتھ اختیار کر لینا ہے۔
کائنات کا نظام اسی موافقت باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ کائنات کا ہر جزء پورے جذبہ اطاعت کے ساتھ دوسرے اجزاء کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنا وظیفہ ادا کر رہا ہے۔ یہی معاملہ گھر کے نظام میں بھی مطلوب ہے۔ یہاں بھی عورت کو گھر کے مجموعی نظام سے ہم آہنگی اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کا نقشہ بنانا ہے، اسی ہم آہنگی میں اس کے لیے ہر قسم کی سعادت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
گھر کے نظام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے عورت کو اپنے ساتھ دوسروں کے جذبات کی رعایت کرنا ہے۔ اس کو اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہونا ہے۔ اس کو اپنے خونی رشتوں کے احترام کے ساتھ اپنے غیر خونی رشتوں کا بھی پورا لحاظ رکھنا ہے۔ اور یہ سب کچھ یہ سمجھ کر کرنا ہے کہ وہ کسی مرد یا کسی عورت کے سامنے نہیں جھک رہی ہے بلکہ خالق فطرت کے آگے جھک رہی ہے، کیوں کہ خالق فطرت کی مرضی یہی ہے۔
زوجین کے اصول کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ مرد کے ساتھ عورت ہے اور عورت کے ساتھ مرد۔ مگر وسیع تر معنی میں وہ پوری زندگی کو سموئے ہوئے ہے۔ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مرد اور عورت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زندگی عالمی انسانی اشتراک کا ایک نظام ہے۔ کوئی مرد یا کوئی عورت اس عمومی زنجیر کی صرف ایک کڑی ہے۔ ایک کڑی کے ٹوٹنے سے پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے ہر کڑی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سالمیت کو آخری حد تک باقی رکھے تاکہ فطرت کا قائم کردہ نظام حیات شکست و ریخت کا شکار نہ ہونے پائے۔