إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ (مسند أحمد،حدیث نمبر 18386)دعا ہی عبادت ہے۔
الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3371)دعا عبادت کا مغز ہے۔
مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3373)جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔
لَا يَرُدُّ القَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2276)قضا کو صرف دعا ہی ٹال سکتی ہے۔
مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3381)کوئی شخص جب اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ یا تو اس کو وہ چیز دے دیتا ہے جو اس نے مانگی تھی یا اس کے برابر کوئی بلا اس سے روک دیتا ہے جب تک کہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔
لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الدُّعَاءِ (سنن ابن ماجه،حدیث نمبر 3829)اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں
سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عز وجل يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3571)اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ کیونکہ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے۔
إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللهِ بِالدُّعَاءِ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3548)دعا ان چیزوں کے لیے بھی مفید ہے جو اُتر چکی ہیں اور ان چیزوں میں بھی جو ابھی نہیں اُتریں۔ تو اے اللہ کے بندو، تم ضرور دعا مانگو۔
لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 3604)تم میں سے ہر ایک کو اپنے رب سے اپنی تمام حاجت مانگنا چاہیے، یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی وہ خدا سے مانگے۔
دعا کرنے والا اپنے آپ کا عاجز مطلق کے مقام پر رکھتا ہے اور خدا کو قادر مطلق کے مقام پر۔ دعا ایک طرف اپنی حیثیت واقعی کا اقرار ہے اور دوسری طرف خدا کی حیثیت واقعی کا اعتراف۔ یہ حقیقت پسندی کی آخری شکل ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف سے بڑا کوئی عمل اس امتحان کی دنیا میں نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔