حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا: دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم اجنبی ہو تم یہاں ایک مسافر ہو۔
اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو تم صبح کا انتظار نہ کرو۔ اور جب تم صبح کرو تو تم شام کا انتظار نہ کرو۔ اور تم اپنی صحت سے اپنے مرض کے لیے لو اور تم اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے حاصل کرو۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت اور صحابی کی اس تشریح میں زندگی کا راز بتا دیا گیا ہے۔ انسان جب اپنے گھر پر اور اپنے وطن میں ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے مستقل مقام پر ہوں۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو ایک خاص ڈھنگ پر ڈھال دیتا ہے، اس کے برعکس جو آدمی کسی اجنبی علاقہ میں سفر کر رہا ہو وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک عارضی مقام پر ہوں۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو بالکل دوسرا رُخ دیدیتا ہے___مومن کی زندگی ایک اعتبار سے اسی دوسرے انسان کی مانند ہوتی ہے۔
مومن موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو وقتی مسافر سمجھتا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر اس کی توجہ اور اس کی دلچسپیوں کو دنیا میں لگنے نہیں دیتا۔ وہ بظاہر دنیا میں رہتا ہے، مگر اپنی یاد اور سوچ کے اعتبار سے وہ آخرت کا باسی بنا رہتا ہے۔ یہ ذہن اس کے اندربے پناہ صبر پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ہر تلخی کو برداشت کر لیتا ہے، کیونکہ ہر تلخی اس کو وقتی دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے نقصان کو وہ سہہ لیتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کا فائدہ بھی عارضی ہے اور یہاں کا نقصان بھی عارضی۔ شدید انتقامی جذبات بھی اس کے اندرونی سرد خانہ میں پہنچ کر بجھ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انتقام لینے والا بھی بالآخر موت کی گرفت میں آنے والا ہے اور انتقام نہ لینے والا بھی۔
یہ چیز اس کو حددرجہ وقت کا احساس کرنے والا(Time-conscious)بنا دیتی ہے۔ اس کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ اگلی صبح تک جئے گا اور اس لیے وہ اپنی موجودہ شام کو آخری حد تک استعمال کر لینا چاہتا ہے۔ وہ اپنے ایک لمحہ کو بھی ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔