امیر تبلیغ مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ تھا کہ وہ کسی جماعت کو دین کے راستہ میں بھیجتے تو روانگی کے وقت اس کو یہ نصیحت کرتے
نیچی نظر، دل میں فکر، زبان پر ذکر،
قدم ملا کر چلو گے تو منزلیں آسان ہو جائیں گی۔
اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ___ سنجیدگی، احساس ذمہ داری، اللہ کی عظمت کا اقرار اور اتحاد، یہ چیزیں جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائیں، وہ ضرورکامیاب ہوں گے۔
یہ انتہائی اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کے فرد فرد میں یہ شعور جگانا اور ایک ایک شخص کے اندر یہ جذبہ بھرنا یہی اصل کام ہے۔ اسی میں آخرت کی بھلائی ہے اور اسی میں دنیا کی بھلائی بھی۔
قوم یا خارجی نظام کا بذات خود کوئی مستقل وجود نہیں۔ اصلی اور مستقل وجود صرف فرد کا ہے۔ فرد کے مجموعہ کا نام قوم ہے۔ اور فرد کی کارکردگی کا نام نظام۔ اس لیے فرد کو بنانا قوم کو بنانا ہے اور فرد کی اصلاح گویا پورے نظام کی اصلاح ہے۔
اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو وہی کام کام ہے جو فرد کو نشانہ بنا کر کیا جائے۔ جس کام میں نظام یا حکومت کو نشانہ بنایا گیا ہو وہ صرف ایک ہنگامہ ہے۔ وہ باعتبار حقیقت کوئی کام نہیں۔ جو چیز آپ اجتماع کی سطح پر چاہتے ہیں اس کو آپ اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب کہ آپ اس کو فرد کی سطح پر حاصل کر چکے ہوں۔ فرد کی اصلاح کے بغیر اصلاح معاشرہ اور انقلاب حکومت کا نعرہ لگانا یا تو لیڈری ہے یا دیوانگی۔ اس کے سوا اس کی کوئی تیسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔
فرد فرد کے اندر وہ گہرا ایمان پیدا کیجئے کہ تواضع سے اس کی نظریں جھک جائیں۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس اس کے سینہ میں تڑپ بن کر داخل ہو جائے۔ اللہ کی عظمت اس کے اوپر اتنی چھائے کہ وہ اس کو ہر وقت یاد کرنے والا بن جائے۔ اس کی بے نفسی اس کو لوگوں کے ساتھ متحد کر دے۔ افراد کے اندر اگر یہ اوصاف آ جائیں تو اس کے بعد بقیہ چیزیں اسی طرح لازمی طور پر آئیں گی جس طرح ایک زندہ درخت کے اوپر پھل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.