حاجی امداد اللہ صاحب(1817-1899) دیوبند کے بڑے بزرگوں میں سے تھے۔ ان کا طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کے بارے میں کوئی بری بات کہتا تو وہ فوراً کہتے کہ دو گواہ لے آؤ۔ اور جب وہ دو گواہ نہ لاتے تو بات کو وہیں ختم کر دیتے اور کہتے کہ جب تمہارے پاس اپنی بات کے حق میں دوگواہ نہیں ہیں تو تمہاری بات قابل اعتبار نہیں۔
یہ عین شرعی طریقہ ہے۔ اسلام میں معاملات کے اثبات کے لیے شہادت کا اصول رکھا گیا ہے۔ یعنی کوئی شخص کوئی معاملہ کرے یا کسی بات کا دعویٰ کرے تو وہ اپنے دعوے کے حق میں معتبر گواہ پیش کرے۔ زنا کے معاملہ میں چار گواہ کا اصول ہے، اور بقیہ تمام معاملات میں دو گواہ کا اصول۔
ایک شخص کسی کے اوپر کوئی الزام لگائے تو البَیّنۃ علی المدّعی کے شرعی اصول کے مطابق اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ثبوت پیش کرے۔ ضروری ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کی بات بالکل بے بنیاد قرار دی جائے گی۔
مگر موجودہ زمانہ میں مزاجوں کے بگاڑ کی وجہ سے یہ اصول عملاً ختم ہوگیا ہے۔ خاص طورپر جس شخص سے کسی وجہ سے شکایت یا تلخی ہو جائے اس کے بارے میں تو کسی قسم کے ثبوت کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جو بھی الٹی بات اس کے بارے میں کہہ دی جائے اس کو سنتے ہی مان لیا جاتا ہے۔ نہ کوئی ثبوت مانگا جاتااور نہ دو گواہ طلب کیے جاتے۔
یہ بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس میں ملوث ہیں۔ حتیٰ کہ اکابر تک اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کم ازکم میں نے اپنی زندگی میں کسی کے بارے میں نہیں سنایا جانا کہ اس کے سامنے اس کے ’’مخالف‘‘ پر کوئی الزام لگایا جائے اور وہ الزام لگانے والے سے کہے کہ اپنی بات کے ثبوت میں دوگواہ لاؤ، ورنہ تمہای بات قبول نہیں کی جائے گی۔
قدیم زمانہ میں بزرگی کا مطلب وہ تھا جس کی مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ مگر آج بزرگی کا مفہوم بالکل بدل گیا ہے۔ آج ایک آدمی گواہ اور ثبوت کے بغیر ایک الٹی بات کو مان لیتا ہے، اس کے باوجود اس کی بزرگی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ پھر بھی وہ اپنے معتقدین کے درمیان بدستور مقدس بنا رہتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.