ایک بزرگ کا واقعہ ہے۔ کسی مسئلہ پر ان کی گفتگو ایک شخص سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران بزرگ کی زبان سے کچھ سخت الفاظ نکل گئے۔ اس کے بعد دونوں الگ ہوگئے۔ یہ شام کا وقت تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد جب بزرگ اپنے بستر پر گئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا دل انہیں ملامت کرنے لگا کہ تم نے خدا کے ایک بندے کے ساتھ سخت کلامی کی۔ تم نے اپنے مقابلہ میں اس کو حقیر سمجھا۔ تمہارے اندر ابھی تک گھمنڈ کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ خدا کے یہاں اگر وہی آدمی بلند مرتبہ ہو اور تم خدا کے یہاں بے قیمت ٹھہرو تو تم کیا کرو گے۔ تم کو یہ حق تو تھا کہ اپنے بھائی کی رائے سے اختلاف کرو۔ مگر تم کو یہ حق نہ تھا کہ برے الفاظ بول کر اس کو ذلیل کرو۔
اس قسم کے خیالات نے بزرگ کواتنا بے چین کیا کہ ان کی نیند اڑ گئی، وہ رات بھر اپنے بستر پر کروٹیں بدلتے رہے۔ ایک بار وہ بستر سے اٹھے اور وضو کرکے نماز پڑھنا شروع کیا، مگر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے خدا ان کی نماز کو ان کے چہرہ پر مار رہا ہے۔ ان کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ صبح ہوتے ہی انہوں نے فجر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد فوراً مذکورہ آدمی کے گھر پہنچے۔ اس سے ملاقات کرکے اس سے معافی مانگی۔ اس وقت حال یہ تھا کہ ایک طرف ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور دوسری طرف زبان سے یہ نکل رہا تھا۔’’خدا کے واسطے مجھے معاف کر دو‘‘
یہ اللہ سے ڈرنے والے شخص کا حال تھا۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس کی اگر شام کے وقت کسی سے تکرار ہو جائے تو صبح کو وہ اس کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ پچھلے دن اگر خود کسی کو برا بھلا کہا تھا تو اگلے دن اپنے ساتھیوں کو بھی اکساتا ہوا نظر آتا ہے کہ وہ اس کو ذلیل کریں۔ اگر ایک بار کسی سے شکایتی باتیں ہوگئیں تو ہمیشہ کے لئے اس کے خلاف کینہ اپنے دل میں رکھ لیتا ہے اور وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کو ذلیل اور برباد کرنے کے لئے وہ کر سکتا ہے۔
جس آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اس کے لئے اللہ کا ڈر اس کا نگہبان بن جاتا ہے۔ وہ شام کی غلطی کی تلافی صبح کو کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اللہ کے ڈر سے خالی ہو اس کا رہنما صرف اس کا نفس ہوتا ہے۔ وہ اپنے نفس کی رہنمائی میں ایک کے بعد ایک سرکشی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔