Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

چھوٹا واقعہ بڑا سبق

Urdu · 4 min

مولانا سید امیر علی(1858-1921) ملیح آباد میں پیدا ہوئے اور لکھنؤ میں وفات پائی۔ انہوں نے مڈل سکول تک تعلیم حاصل کی تھی کہ ان کی تعلیم چھوٹ گئی۔ غربت کی وجہ سے انہیں ملازمت تلاش کرنی پڑی۔ بہرائج کے ایک سب پوسٹ آفس میں ان کو پوسٹ ماسٹر کی جگہ مل گئی۔ ملازمت کی ضرورت کے تحت انہوں نے معمولی انگریزی سیکھ لی اور کام کرنے لگے۔

گھریلو تربیت کے تحت وہ نماز کے پابند تھے۔ ایک دن وہ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد گئے۔ اسی وقت سرکاری افسر ڈاک خانہ کے معائنہ کے لیے آگیا۔ پوسٹ ماسٹر کو غیر حاضر پا کر وہ بہت غصہ ہوا۔ سید امیر علی صاحب کو مسجد میں اطلاع پہنچی تو وہ وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا۔ اطمینان کے ساتھ نماز پڑھ کر واپس آئے۔ افسر مذکور نے پوچھ گچھ کی تو وہ چپ رہے۔ نہ کوئی جواب دیا اور نہ کسی قسم کی معذرت کی۔ خاموشی کے ساتھ ایک کاغذ لیا۔ اس پر اپنا استعفا لکھا اور افسر کو دے کر گھر چلے گئے۔

سید امیر علی صاحب اس وقت تک صرف اردو اور کچھ انگریزی جانتے تھے۔ وہ عربی اور فارسی سے ناواقف تھے۔ استعفاء کے بعد انہیں ایک جھٹکا لگا۔ انہوں نے سوچا کہ جس دین کی خاطر میں نے ملازمت سے استعفاء دیا ہے، اس کی بابت براہ راست میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں کوئی شخص سوال کرے تو میں اس کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ میں نماز ضرور پڑھتا ہوں مگر نماز کا مطلب کیا ہے، اس سے میں بے خبر ہوں۔ قرآن و حدیث سے مجھے کوئی واقفیت نہیں۔

اب ان کے اندر ایک نیا جذبہ جاگ اٹھا۔ انہوں نے عربی اور فارسی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ عربی زبان میں انہوں نے اتنی مہارت پیدا کی کہ ماہر علماء میں شمار کیے جانے لگے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں وہ شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں صدر مدرس رہے۔ منشی نول کشور(وفات 1895) کے مطبع سے وابستہ ہو کر بڑی بڑی عربی کتابوں کے اردو ترجمے کئے، مثلاً صحیح بخاری، فتاویٰ عالمیگری، وغیرہ(قومی آواز4 فروری1990ء)۔ آدمی کے اندر اگر زندگی ہو تو ایک معمولی واقعہ اس کے اندر حرکت پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ عالی شان کارنامے انجام دے سکے۔ اور جس آدمی کے اندر زندگی نہ ہو اس کے ساتھ بڑے بڑے واقعات پیش آئیں گے مگر وہ اس طرح پڑا رہے گا جیسے کہ اس نے نہ کچھ جانا اور نہ کوئی سبق لیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.