← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
بعضکم من بعض
Urdu · 6 min
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو عورت اور مرد آسمان اور زمین کی نشانیوں میں غور کرتے ہیں وہ تخلیق کے اس نظام میں خالق کے وجود کو پا لیتے ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ کائنات کے خالق نے اس کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر خالق کی دریافت ان کو داعی حق کی دریافت تک پہنچاتی ہے۔ وہ اس کا اعتراف کرکے اس کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ آخرت میں ان کو نجات یافتہ گروہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہو۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان کے رب نے ان کے حق میں ان کی دعا قبول فرمائی اور کہا کہ: میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، ان کی خطاؤں کو ضرور میں ان سے دور کر دوں گا۔ اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے(3:195)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن کے اس بیان میں مرد اور عورت کے لئے(بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو
Qur'anQuotes the Qur'an
You are members, one of another.
دوسرے لفظوں میں یہ کہ عورت مرد کا نصف آخر ہے، اور مرد عورت کا نصف ثانی۔ گویا قرآن کے مطابق، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے یکساں حصہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے برابر کے ساتھی ہیں۔ انسانی مرتبہ کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق و امتیاز نہیں۔ جو درجہ ایک کا ہے وہی درجہ دوسرے کا ہے۔
فرق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک جسمانی فرق، دوسرا ہے انسانی فرق۔جسمانی فرق مرد اور مرد، عورت اور عورت میں بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح عورت اور مرد کے درمیان بھی جسمانی فرق پایا جاتا ہے۔ مگر جس طرح مرد اور مرد یا عورت اور عورت میں جسمانی فرق سے انسانی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اسی طرح عورت اور مرد کے درمیان جسمانی فرق کامطلب یہ نہیں کہ دونوں جنسوں کے درمیان انسانی فرق کیا جائے۔ میدان کار کے اعتبار سے دونوں میں تقسیم ہے مگر انسانی مرتبہ کے اعتبار سے دونوں میں کوئی تقسیم نہیں۔
جیسا کہ قران میں بتایا گیا ہے، دنیا کی طرح آخرت میں بھی مرد اور عورت کا معاملہ یکساں ہے۔ دونوں کا یکساں طور پر حساب لیا جائے گا۔ دونوں کے قول و عمل کو ایک ہی معیار پر جانچا جائے گا۔ جو چیز مرد کے لئے نجات کا ذریعہ ہوگی، وہی عورت کے لئے بھی نجات کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو چیز عورت کی فلاح و کامیابی کا فیصلہ کرے گی وہ مرد کے لئے بھی فلاح و کامیابی کی ضامن ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جانچ کا وہ معیار کیا ہے، مذکورہ آیتوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معیار یہ ہے___ کائنات میں غور وفکر سے معرفت حاصل کرنا، خدا وند عالم کا اقرار، خدا کے پیغمبر پر ایمان، آخرت کی تڑپ، خدا کے لئے ہجرت۔ خدا کی راہ میں جدوجہد، تقوی اور خشوع، صبر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کائنات معرفت کا خزانہ ہے۔ مرد اور عورت جب اس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتے ہیں تو ان کو اس سے روحانی غذا ملتی ہے، ان کو اس میں حق کی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس طرح کائنات میں غور کرکے وہ خالق کائنات کو پا لیتے ہیں۔
کائنات کی معنویت اور خدا کی موجودگی کی دریافت ان کو بتاتی ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس دنیا میں آزاد نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ ہر ایک سے اس کے قول و عمل کا حساب لیا جائے۔ اور اس کے ریکارڈ کے مطابق اس کو اس کا بدلہ دیا جائے۔ وہ خدا پر ایمان کے ساتھ پیغمبر خدا پر ایمان کے لئے بھی مجبور ہو جاتا ہے کیونکہ پیغمبر کی رہنمائی کے بغیر خدا کی عبادت و اطاعت نہیں کی جا سکتی۔
ہجرت سے مراد محض ترک وطن نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت اللہ کی خاطر ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ نامطلوب کو چھوڑنا اور مطلوب کو لینا، یہ ایک مستقل عمل ہے جو مومن اور مومنہ کی پوری زندگی میں ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح ان کی زندگی سراپا جدوجہد کی زندگی بن جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران وہ بار بار تقوی اور خشوع کی کیفیات کا تجربہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی خاطر صبر کرنے والے بن جاتے ہیں۔