حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں تھے۔ صحابہ کی ایک تعداد آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا۔ نوجوان نے آپ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا۔ وہ سوال و جواب یہ تھا:
قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا، أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ (سنن ابن ماجه،حدیث نمبر 4259)۔اس نے کہا کہ اسے خدا کے رسول، مسلمانوں میں سب سے بہتر کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ سمجھ دار کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرے اور جو موت آنے سے پہلے سب سے زیادہ اس کی تیاری کرے۔ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔
جس شخص کا ایمان جتنا زیادہ گہرا ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کا اخلاق اچھا ہوگا۔ جس آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہو جائے۔ وہ بندوں کے ساتھ سلوک کرنے میں انصاف کرنے والا اور مہربانی کرنے والا بن جاتا ہے۔ اور اسی کا دوسرا نام حسن اخلاق ہے۔
موت کو یاد رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دنیا کو عارضی اور آخرت کو ابدی سمجھتا ہے۔ وہ موجودہ دنیا کی چیزوں میں الجھ کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ آنے والی زندگی کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ پھر اس سے زیادہ عقل مند کون ہو سکتا ہے جو ابدی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں سوچے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔
موت کی یاد کا یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے عمل کے بارے میں ہوشیار ہو جاتا ہے۔ یہ مزاج اس کے اندر سے بے اعترافی، ناانصافی، فریب، استغلال اور نمودونمائش کے جذبات ختم کر دیتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کے غلط اور مصنوعی جذبات ختم ہو جائں، اس کا ہر قدم صحیح سمت میں اٹھے گا، وہ ایک بے پناہ انسان بن جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔