قرآن کی سورہ نمبر90 میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو خوش نصیب ہیں اور جن کو خدا کی طرف سے بڑے بڑے انعامات دیئے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے: ثُمَّ كانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَواصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْمَيْمَنَةِ (90:17-18)۔
اور پھر وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔ یہی لوگ نصیب والے ہیں۔
اللہ پر ایمان تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔ آدمی جب اللہ پر ایمان لاتا ہے تو ایک طرف وہ اپنے خالق و مالک کے سلسلہ میں بندگی کے تقاضے پورا کرتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ اپنے اندر وہ اعلیٰ استعداد پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے وہ خدا کے بندوں کے درمیان مطلوب انسان بن کر رہ سکے۔
بندوں کے سلسلہ میں ایک انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ ایک لفظ میں، مرحمت ہے۔ یعنی سب کے حق میں ہمدردی اور مہربانی۔ سب کے لیے سچا خیر خواہ بن کر ان کے درمیان زندگی گزارنا۔ کسی شخص کا ذکر ہو تو اس کے حق میں وہی کلمات اپنی زبان سے نکالنا جو اس کے لیے موزوں ترین ہوں۔ کسی سے سابقہ پیش آئے تو اس سے ہمیشہ بہترین سلوک کیا جائے۔ کسی سے معاملہ پڑے تو وہی کیا جائے جو اس کی خیر خواہی کے مطابق ہو۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات کو مہربانی کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔
مگر اس دنیا میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا سلوک صبر و برداشت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا میں لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی طرف سے شکایت پہنچے گی۔ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ٹکراؤ کے اسباب پیدا ہوں گے۔ ایک شخص سے ایسا قول یا فعل صادر ہوگا جس سے دوسرے کی انا کو ٹھیس پہنچ جائے۔
اس لیے مرحمت کی روش پر چلنے کے لیے صبر کی طاقت ضروری ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق آپ مرحمت والے سلوک پر پورے اتریں تو آپ کو یک طرفہ طور پر دوسروں کی فرضی یا حقیقی زیادتیوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ آپ کو اپنے اندر سے شکایتی مزاج کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اسی کا نام صبر ہے، اور اس صبر کے بغیر کسی کے لیے نصیبہ والا بننا ممکن نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔