عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ( مسند أحمد،حدیث نمبر 22170)۔ یعنی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں تمام خصلتیں پائی جا سکتی ہیں، سوا خیانت اور جھوٹ کے۔
انسانی غلطیوں کا سبب عام طور پر دو ہوتا ہے، ایک ہوس ، اور دوسرے دنائت۔ ہوس کے تحت ہونے والی غلطی وہ ہے جو کوئی آدمی نفسیاتی جذبہ سے مغلوب ہو کر کر بیٹھتا ہے۔ دنائت کے تحت کی جانے والی غلطی وہ ہے جو کمینہ صفت ہونے کی بنا پر کسی شخص سے صادر ہوتی ہے۔
حدیث میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وجہ یہی فرق ہے۔ کوئی شخص جب کسی دوسری اخلاقی برائی میں ملوث ہوتا ہے، مثلاً غصہ میں کوئی سخت کارروائی کرنا، تو اس کا سبب نفس کی کمزوری ہوتی ہے۔ مخصوص حالات میں آدمی کے اوپر نفس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور وقتی مغلوبیت کے تحت وہ ایک غلط فعل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ پھر جب نفسانی مغلوبیت ختم ہوتی ہے تو اس کے اوپر شدت سے ندامت کا احساس طاری ہو جاتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
مگر خیانت اور کذب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ برائی کی وہ قسم ہے جو کمینہ پن کی بنا پر آدمی سے صادر ہوتی ہے۔ اس کا ارتکاب وہ شخص کرتا ہے جس کی روح گندی ہوگئی ہو۔ اس کا سبب وقت مغلوبیت نہیں، بلکہ شرپسندی کی مستقل خصلت کی بنا پر آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا فعل وہ شخص کرتا ہے جس کی روح مسخ ہوگئی ہو۔ اسی لیے وہ خیانت اور جھوٹ جیسی برائی کا مرتکب ہونے کے باوجود مطمئن رہتا ہے۔ اس کو کسی قسم کی بے چینی لاحق نہیں ہوتی اور نہ توبہ اور ندامت کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی۔
جو برائی وقتی مغلوبیت کے تحت صادر ہو، اس کے متعلق امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔ لیکن جس برائی کا سبب روحانی گندگی ہو اس کے لیے معافی کا کوئی سوال نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔