← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
نقطۂ انقلاب
Urdu · 7 min
عمر بن عبدالعزیز تابعی بنوامیہ کے ایک خلیفہ تھے۔ ان کے عالم اور زاہد اور خلیفۂ راشد ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ صحابہ کے بعد ان کا مقام امت میں سب سے زیادہ بلند مانا جاتا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنی ابتدائی زندگی میں ایک خوش باش اور خوش پوش انسان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ پرتکلف زندگی گزارتے تھے۔ آخر عمر میں وہ بالکل بدل گئے۔ اس تبدیلی کے لیے جو واقعہ نقطہ آغاز ثابت ہوا وہ یہ تھا: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ كَثِيرٍ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: مَا كَانَ بَدْءُ إِنَابَتِكَ؟ قَالَ: أَرَدْتُ ضَرْبَ غُلَامٍ لِي، فَقَالَ لِي: اذْكُرْ لَيْلَةً صَبِيحَتُهَا يَوْمُ الْقِيَامَةِ۔(تاریخ دمشق،جلد45،صفحہ151)۔عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا کہ آپ کی انابت کا آغاز کیسے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ایک غلام کو مارنا چاہا تو اس نے کہا کہ اس رات کو یاد کرو جس کی صبح قیامت کا دن ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جب آدمی کے اندر زندگی ہو، جب آدمی کے اندر قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو ایک جملہ اس کو بدلنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب اس کی روح مردہ ہو جائے۔ جب اس کی قبول کرنے کی صلاحیت زندہ حالت میں باقی نہ رہے تو ہر دلیل اس کے لیے بے کار ہے۔ اس کے بعد کسی بھی قیمت پر وہ حق کو قبول کرنے والا نہیں، خواہ حق کو کتنا ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اس کے سامنے بیان کر دیا گیا ہو۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے غلام کو مارنا چاہتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلام سے ان کو کوئی سخت شکایت پیدا ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود غلام کی بات نے ان کو ہلا دیا۔ یہ کسی انسان کے لیے انتہائی عظمت کی بات ہے۔ ایک شخص جس سے تکلیف پہنچی ہو۔ جس نے سخت شکایت کا موقع دیا ہو، اس کی بات سے مثبت اثر لینے کے لیے بہت اونچی انسانیت درکار ہے۔ مگر اس دنیا میں وہی لوگ اونچی ایمانی ترقی کرتے ہیں جو اس قسم کی اونچی انسانیت کا ثبوت دے سکیں۔
مردہ انسان کے لیے شکایت کا واقعہ اختتام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر زندہ انسان کے لیے شکایت کا واقعہ ایک نئے دور کا آغاز بن جاتا ہے۔
ترک تعلق
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ امام بخاری نے اس کو کتاب الادب میں نقل کیا ہے۔ امام مسلم نے کتاب البروالصلہ میں حسب ذیل باب کے تحت اس کو شامل کیا ہے بابتحریم الھجرۃ فوق ثلاثۃ ایام بلاعذر شرعی۔ یعنی یہ کہ عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ ترک تعلق حرام ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:عن ابی ایوب الانصاریِّ اَنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال۔ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر6077)۔ابو ایوب انصاریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی مسلم کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ وہ ملیں تو یہ اس سے منہ پھیر لے اور وہ اس سے منہ پھیر لے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علماء نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تین دن سے زیادہ ترک تعلق حرام ہے اور ابتدائی تین دن تک جائز ہے(قَالَ الْعُلَمَاءُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ تَحْرِيمُ الْهَجْرِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَكْثَرُ مِنْ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَإِبَاحَتُهَا فِي الثَّلَاثِ الْأُوَلِ) شرح النووي على مسلم ،جلد16،صفحہ 117۔
other sourceWords of another person or source
آدمی جب بھی کسی سے ترک تعلق کرتا ہے تو وہ ہمیشہ کسی شکایت کی بنا پر کرتا ہے۔ اس لیے حدیث میں یہ بات اپنے آپ شامل ہے کہ تم کو اپنے بھائی سے خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو جائے تمہارے لیے بہرحال ایسا کرنا جائز نہیں کہ تم مستقل طور پر اس سے تعلق توڑ لو اور سلام و کلام بند کر دو ۔شکایت کے موقع پر چونکہ آدمی غصہ کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے فرمایا کہ تم کو تین دن کی رخصت ہے۔ تین دن تک ترک تعلق جائز ہے، اور اس کے بعد ترک تعلق حرام۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر کسی کو کسی سے شکایت ہے اور وہ ختم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بات چیت کے ذریعہ وہ شکایت کو رفع کرنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ سارے معاملہ کو وہ اللہ کے اوپر ڈال دے۔ مگر جہاں تک ترک تعلق کا معاملہ ہے، وہ کسی بھی حال میں کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔