Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

تنقید کو سن کر

Urdu · 3 min

خلیفہ ہارون الرشید(170-193ھ) نے ایک بار اپنے وزیر سے کہا کہ مجھ کو کسی بزرگ کے پاس لے چلو۔ وہ خلیفہ کو الفضیل بن عیاض(105-187ھ) کے پاس لے گیا۔ اس سلسلہ میں لمبا قصّہ کتابوں میں نقل ہوا ہے۔

خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے۔ انہوں نے فضیل سے مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کے ہاتھ میں رکھا تو انہوں نے کہا کہ کتنا زیادہ نرم ہے یہ ہاتھ، اگر کل کے دن وہ اللہ کے عذاب سے بھی بچ جائے(يَا لَهَا ‌مَنْ ‌كَفٍّ مَا ‌أَلْيَنَهَا إِنْ ‌نَجَتْ غَدًا مَنْ عَذَابِ اللَّهِ)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد خلیفہ نے فُضیل سے کہا کہ کچھ نصیحت کیجئے۔ انہوں نے تلخ نصیحت کے انداز میں کچھ کلمات کہے۔ خلیفہ نے کہا کہ اور کچھ فرمایئے۔ فضیل نے مزید کچھ کہا۔ اس طرح وہ سخت تنقیدی انداز میں دیر تک خلیفہ کو ڈرانے والی باتیں کرتے رہے۔ خلیفہ ان کی نصیحتوں کو سن کر رو پڑا۔ آخر میں اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ جب تم مجھ کو کسی آدمی کے پاس لے جاؤ تو اسی طرح کے آدمی کے پاس لے چلو۔ یہ مسلمانوں کے سردار ہیں(إِذَا دَلَلْتَنِي عَلَى رَجُلٍ فَدُلَّنِي عَلَى مِثْلِ هَذَا، هَذَا سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ)حلیۃ الاولیاء للاصفہانی، جلد8، صفحہ106۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آدمی کے اندر اگر صحیح مزاج ہو تو وہ نصیحت کو سن کر اس سے سبق لے گا، خواہ یہ نصیحت کتنے ہی سخت نتقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ ایسا آدمی نصیحت کو اس کے معنی اعتبار سے دیکھے گا نہ کہ اس کے لفظی اعتبار سے، وہ اس کو اصولی حیثیت سے لے گا نہ کہ ذاتی حیثیت سے۔

صحیح مزاج اگر بادشاہ کے اندر ہو تو وہ بھی تنقید کو سن کر اسے برداشت کرے گا۔ اور ایک معمولی آدمی بھی اگر صحیح مزاج نہ رکھتا ہو تو وہ تنقید کو سن کر بگڑ جائے گا۔ تنقید کسی آدمی کو پہچاننے کی سب سے زیادہ یقینی کسوٹی ہے۔ تنقید کو سن کر جو آدمی اپنے ذہنی توازن کو نہ کھوئے وہی اعلیٰ انسان ہے۔ اور جو شخص تنقید کو سن کر بگڑ جائے، اس کے متعلق یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ انسان والی خصوصیات رکھتا ہے۔

تنقید کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے تقوی کی پہچان کراتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content