خلیفہ ہارون الرشید(170-193ھ) نے ایک بار اپنے وزیر سے کہا کہ مجھ کو کسی بزرگ کے پاس لے چلو۔ وہ خلیفہ کو الفضیل بن عیاض(105-187ھ) کے پاس لے گیا۔ اس سلسلہ میں لمبا قصّہ کتابوں میں نقل ہوا ہے۔
خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے۔ انہوں نے فضیل سے مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کے ہاتھ میں رکھا تو انہوں نے کہا کہ کتنا زیادہ نرم ہے یہ ہاتھ، اگر کل کے دن وہ اللہ کے عذاب سے بھی بچ جائے(يَا لَهَا مَنْ كَفٍّ مَا أَلْيَنَهَا إِنْ نَجَتْ غَدًا مَنْ عَذَابِ اللَّهِ)
اس کے بعد خلیفہ نے فُضیل سے کہا کہ کچھ نصیحت کیجئے۔ انہوں نے تلخ نصیحت کے انداز میں کچھ کلمات کہے۔ خلیفہ نے کہا کہ اور کچھ فرمایئے۔ فضیل نے مزید کچھ کہا۔ اس طرح وہ سخت تنقیدی انداز میں دیر تک خلیفہ کو ڈرانے والی باتیں کرتے رہے۔ خلیفہ ان کی نصیحتوں کو سن کر رو پڑا۔ آخر میں اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ جب تم مجھ کو کسی آدمی کے پاس لے جاؤ تو اسی طرح کے آدمی کے پاس لے چلو۔ یہ مسلمانوں کے سردار ہیں(إِذَا دَلَلْتَنِي عَلَى رَجُلٍ فَدُلَّنِي عَلَى مِثْلِ هَذَا، هَذَا سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ)حلیۃ الاولیاء للاصفہانی، جلد8، صفحہ106۔
آدمی کے اندر اگر صحیح مزاج ہو تو وہ نصیحت کو سن کر اس سے سبق لے گا، خواہ یہ نصیحت کتنے ہی سخت نتقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ ایسا آدمی نصیحت کو اس کے معنی اعتبار سے دیکھے گا نہ کہ اس کے لفظی اعتبار سے، وہ اس کو اصولی حیثیت سے لے گا نہ کہ ذاتی حیثیت سے۔
صحیح مزاج اگر بادشاہ کے اندر ہو تو وہ بھی تنقید کو سن کر اسے برداشت کرے گا۔ اور ایک معمولی آدمی بھی اگر صحیح مزاج نہ رکھتا ہو تو وہ تنقید کو سن کر بگڑ جائے گا۔ تنقید کسی آدمی کو پہچاننے کی سب سے زیادہ یقینی کسوٹی ہے۔ تنقید کو سن کر جو آدمی اپنے ذہنی توازن کو نہ کھوئے وہی اعلیٰ انسان ہے۔ اور جو شخص تنقید کو سن کر بگڑ جائے، اس کے متعلق یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ انسان والی خصوصیات رکھتا ہے۔
تنقید کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے تقوی کی پہچان کراتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔