اسی طرح ایک مجلس تھی۔ عمدہ قالین پر کچھ خوش پوش اور معزز افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی پھٹے حال آیا۔ وہ بلا اجازت مجلس میں بیٹھ گیا۔ ایک صاحب نے اس کو منع کیا کہ یہاں مت بیٹھو۔ بار بار منع کرنے کے بعد بھی جب وہ نہ مانا تو انہوں نے اس کو پکڑ کر مجلس سے اٹھا دیا اور کہا’’جا اپنا کام کر‘‘ وہ اٹھا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا’’ایک ہی راستہ سے آئے ہیں، ایک ہی راستہ سے جائیں گے دونوں‘‘ آدمی کا یہ جملہ اتنا موثر ثابت ہوا کہ اس کے بعد مجلس کا رنگ بدل گیا۔ لوگ خاموش ہوگئے اور تھوڑی دیر بعد اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔
کبھی آدمی کی زبان سے ایک جملہ نکلتا ہے مگر وہ جملہ محض کچھ الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ سننے والے کے دل میں برچھی کی طرح چبھتا ہے۔ وہ آدمی کو تیر اور تلوار کے بغیر ذبح کر دیتا ہے۔ مگر برچھی کی مانند چبھنے والے جملے صرف انہیں لوگوں کی زبان سے نکلتے ہیں جو اس سے پہلے اپنے سینہ میں برچھی چبھا چکے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.