کچھ معزز لوگ ایک مقام پر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک بھکاری عورت آئی۔ اس نے سوال کیا مگر کسی نے اس کو جواب نہ دیا۔ اس نے پھر اپنا سوال دہرایا۔ اب بھی کسی نے اس کو جواب دینے کی ضرورت نہ سمجھی، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اس سے زیادہ ضروری گفتگو میں مصروف ہیں کہ ایک بھکاری عورت کا جواب دیں۔ بھکاری عورت اس کے باوجود بار بار اپنے سوال کو دہراتی رہی۔ مجلس میں ایک معزز بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو اس مسلسل مداخلت پر غصہ آگیا۔ انہوں نے سخت لہجہ میں کہا’’بڑی بے وقوف معلوم ہوتی ہے‘‘ عورت نے یہ سنا تو بولی’’بابا غریب آدمی بے وقوف ہی ہوتے ہیں‘‘ یہ کہا اور چلی گئی۔ اس واقعہ کے بعد مذکورہ بزرگ اکثر کہا کرتے تھے’’اس بھکاری عورت نے مجھ کو جو جواب دیا اس سے زیادہ سخت جواب مجھ کو ساری زندگی میں کسی نے نہیں دیا۔‘‘
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.