تاتاری جب بغداد کی سلطنت پر غالب آگئے تو ان کے اندر احساس برتری پیدا ہوگیا۔ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے بہت اونچا سمجھنے لگے۔ ایک تاتاری شہزادہ ایک بار گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لئے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا کتا بھی تھا۔ راستہ میں ایک مسلمان بزرگ ملے۔ اس نے مسلمان بزرگ کو اپنے پاس بلایا اور کہا’’ تم اچھے ہو یا میرا کتا‘‘ مسلمان بزرگ نے اطمینان کے ساتھ جوا دیا اگر میرا خاتمہ ایمان پر ہو تو میں اچھا ورنہ تمہارا کتا اچھا‘‘ ۔یہ جملہ اس وقت اتنا موثر ثابت ہوا کہ تاتاری شہزادہ کا دل ہل گیا۔ وہ اس’’ایمان‘‘ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا جس پر آدمی کا خاتمہ نہ ہو تو وہ کتے سے بدتر ہو جاتا ہے۔ اس تلاش کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالآخر وہ مسلمان ہوگیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔