ملک شاہ سلجوقی کی شاہی سواری ایک روز ایک پل سے گزر رہی تھی۔ ایک بڑھیا وہاں آ کر کھڑی ہوگئی۔ بادشاہ اس کے قریب پہنچا تو بڑھیا نے پکار کر کہا اے بادشاہ بتا میرا اور تیرا انصاف اس پل پر ہوگا یا اس پل(صراط) پر۔ ملک شاہ پر اس جملہ کا بے حد اثر ہوا۔ وہ گھبرا کر سواری سے اتر پڑا اور کہا ماں، اُس پل پر کس کی ہمت ہے کہ کھڑا ہو سکے۔ بہتر ہے کہ میرا اور تمہارا حساب اسی پل پر ہو جائے۔ اس کے بعد بڑھیا نے بتایا کہ سپاہیوں نے اس کی گائے پکڑ کر ذبح کر دی ہے، میں تم سے اس ظلم کا انصاف چاہتی ہوں۔ ملک شاہ سلجوقی وہیں ٹھہر گیا اور معاملہ کی تحقیق شروع کر دی۔ جب ثابت ہوگیا کہ بڑھیا کی شکایت صحیح ہے تو اس نے اسی وقت مجرموں کو سزا دی۔ اس کے بعد اس نے بڑھیا سے معافی مانگی اور گائے کی اصل قیمت سے بہت زیادہ معاوضہ دے کر بڑھیا کو راضی کیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.