امام حسن بصری(م110ھ) اور حجاج بن یوسف(م95ھ) کا زمانہ ایک ہی تھا۔ حسن بصری کی صاف گوئی حجاج کو بہت تکلیف پہنچاتی تھی۔ اس نے طے کیا کہ حسن بصری کو قتل کرا دے۔ چنانچہ اس نے حسن بصری کو اپنے دربار میں بلایا۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ ان کو زندہ واپس نہیں جانے دے گا۔ میمون بن مہران بتاتے ہیں کہ حسن بصری جب دربار میں داخل ہوئے اور حجاج کے سامنے کھڑے ہوئے تو یہ گفتگو ہوئی حسن بصری نے کہا اے حجاج، تمہارے اور آدم کے درمیان کتنے باپ ہیں۔ حجاج نے جواب دیا کہ بہت۔ حسن بصری نے کہا کہ اب وہ کہاں ہیں۔ حجاج نے کہا کہ وہ مر گئے۔ حسن بصری کا مطلب یہ تھا کہ جہاں تم مجھ کو پہنچانا چاہتے ہو اسی راستہ پر تم خود بھی تیزی سے جا رہے ہو۔ حجاج اگرچہ ایک ظالم حکمراں تھا۔ مگر یہ الفاظ سن کر اس نے سر جھکا لیا۔ اس کے بعد حسن بصری محفوظ حالت میں دربار سے باہر نکل آئے(فلمَّا دخَلَ عليه فقام بين يَدَيْهِ، فقال: يا حَجَّاجُ، كم بينكَ وبين آدَم من أبٍ؟ قال: كَثِيْر، قال: فأين هُم؟ قال: ماتُوا، قال: فنكَّسَ الحَجَّاجُ رأسَهُ، وخَرَج الَحَسَنُ) حلیۃ الاولیاء للاصفہانی، جلد4، صفحہ88۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔