مشہور نحوی سیبویہ(م177ھ) ایران پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث وفقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے ایک حدیث کا املا کراتے ہوئے کہالیس من اصحابی احد الالوشئت لاتخذت علیہ،لیس ابا السدرداء سیبویہ یہ سن کر بول اٹھالیس ابوالدرداء۔ اس پر حماد نے چلا کر کہا سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے(اس لیے ابو کے بجائے ابا ہے) سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماء، یونس اور عیسی بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا (طبقات النحویین و اللغویین للزبیدی، صفحہ 66)۔
اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے’’الکتاب‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علماء کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جا سکی___ جس شخص کی نحو کمزور تھی، وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا۔
ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ اسے ٹھیس لگتی ہے۔ جب اس کو دوسروں کی طرف سے بے اعترافی کی ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیاں بے جگہ ہوگیا ہے۔
ایسے مواقع پر اثر لینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی ان تجربات کے بعد بے ہمتی اور احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے آدمی نے گویا اپنے آپ اپنے کو مار لیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے لیے ایسا تجربہ ایک مہمیز بن جائے۔ ایسے آدمی کے لیے اس کا تجربہ اس کی صلاحیتوں کو جگانے کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ ازسرنو محنت اور عمل کے رخ پر چل پڑتا ہے، یہاں تک کہ ماضی کا ناکام انسان مستقبل کا کامیاب انسان بن جاتا ہے۔ مثبت تاثر آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور منفی تاثر ناکامی اور بربادی کی طرف۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔