مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے سر سید مرحوم کا ایک واقعہ(الافاضات الیومیہ، جلد1) ان الفاظ میں بیان کیا ہے
ایک انگریزی تعلیم یافتہ شخص ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھا۔ کیا سوجھی کہ ایک بڑے انگریز افسر کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں سر سید کا داماد ہوں مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے۔ وہ انگریز بہت ہی خاطر سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں۔ اس کو ٹھہرا کر اس کی لاعلمی میں ایک تار سرسید کو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے خیال سے آیا ہے اور اپنے آپ کو آپ کا داماد کہتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟
جواب میں سر سید نے اس انگریز کو لکھا بالکل صحیح ہے۔ ضرور آپ ملازمت کے لئے کوشش فرما دیں میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ اس شخص کو ملازمت مل گئی۔
ایک روز اتفاقاً اس انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ(سر سید سے تحقیق حال کا) بیان کر دیا۔ یہ بہت ہی شرمندہ ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا۔ اور سر سید سے مل کر معافی کی درخواست کی اور کہا میں وہی ہوں جس نے اپنے آپ کو آپ کا داماد بتا کر ملازمت لی ہے۔ یہ گستاخی بضرورت تھی۔
سر سید نے جواب میں کہا کہ گو یہ بات اس وقت غلط تھی۔ مگر اب صحیح ہو جائے گی، داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی، سو یہ تو نہیں ہو سکتا۔ مگر دوسری صورت ممکن ہے وہ یہ کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنا لوں سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتا ہوں اور وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ!
یہ توجیہہ وقتی ہی نہ تھی۔ بلکہ تازندگی باپ بیٹی اور داماد کا سا برتاؤ رکھا۔ بلانا، لینا دینا سب اسی طرح رکھا۔(تہذیب الاخلاق علی گڑھ)
ساری دنیا کا ہمدرد بننا بہت آسان ہے۔ مگر قوم کا ایک مصیبت زدہ فرد، جس سے ٹھیس بھی پہنچی ہو، اس کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا لینا سخت مشکل ہے۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو قوم کا سچا خیر خواہ ہو اور اسی کے ساتھ بڑے دل والا بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔