Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

مخلص، منافق

Urdu · 4 min

انسان وہ ہے جو بااصول انسان ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جو وہ کہے وہی کرے، اور جو اسے کرنا ہے وہی کہے۔ جس کے قول اور فعل میں تضاد نہ پایا جائے۔

اخلاق کے اعتبار سے انسان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، مخلص انسان، اور دوسرے، منافق انسان۔ مخلص انسان کے لیے دنیا میں بھی کامیابی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی۔ منافق انسان دنیا میں بھی بے عزت ہے اور آخرت میں بھی بے عزت۔

مخلص انسان سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ وہ حقیقت کا اعتراف کرنے والا ہوتا ہے۔ اس کا ایک سوچا سمجھا ہوا اصول ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں جو روش بھی اختیار کرتا ہے، اسی اصول کی روشنی میں اختیار کرتا ہے۔ اس کے تمام معاملات اسی اصول کے تابع ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق پیشگی طور پر رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ کس وقت وہ کس قسم کا رویہ اختیار کرے گا۔

مخلص انسان انکار کر سکتا ہے مگر وہ دھوکا نہیں دے سکتا۔ وہ سخت گیر ہو سکتا ہے مگر وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ وہ مخالفت کر سکتا ہے مگر وہ کمینہ پن نہیں کر سکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ وہ وعدہ نہ کرے مگرجب وہ وعدہ کر لے گا تو ضرور اس کو پورا کرے گا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اقرار نہ کرے مگر اقرار کر لینے کے بعد ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے قول سے پھر جائے۔

منافق انسان اس کے بالکل برعکس صفات والا انسان ہوتا ہے۔ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے مگر کرتا نہیں۔ وہ وعدہ کرتا ہے مگر وعدہ کو پورا کرنے سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کا قول کچھ ہوتا ہے اور اس کا عمل کچھ۔ وہ خوبصورت باتوں کا بادشاہ ہوتا ہے مگر وہ خوب صورت کردار کا پیکر نہیں ہوتا۔

منافق انسان کی زندگی اصول کے بجائے مصلحت اور مفاد کے تابع ہوتی ہے۔ وہ ہر ایک سے اس کی پسند کی بولی بولتا ہے۔ ہر موقع پر حالات کو پرکھ کر عمل کرتا ہے۔ وہ صرف اس مقام پر متحرک ہوتا ہے جہاں اس کو کسی قسم کا ذاتی فائدہ نظر آئے اور جہاں ذاتی فائدہ نہ ہو وہاں وہ حرکت میں نہیں آتا۔ مخلص انسان انسان ہے اور منافق انسان بے انسان۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.